فواد چوہدری کے پٹھانوں سے متعلق بیان پرہنگامہ برپا تحریک انصاف کے اندر سے بھی شدید ردعمل سامنے آگیا

  جمعرات‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2022  |  15:30

پشاور،اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ہشام انعام اللہ نے فواد چوہدری کے پٹھانوں سے متعلق حالیہ بیان پر ان سے معافی کا مطالبہ کردیا۔پی ٹی آئی رکن ہشام انعام اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ فواد چوہدری نے پٹھان سے متعلق مذاقاً جو کہا

کہ اسے پٹھان قوم کی توہین سمجھتا ہوں، یہ پٹھانوں سے متعلق ایسی سوچ رکھتے ہوئے کیسے پی ٹی آئی تحریک کا حصہ بنے، پی ٹی آئی کا بانی بھی قومیت کے لحاظ سے پٹھان ہے۔ہشام انعام اللہ نے کہا کہ اس تحریک میں حصہ لینے اور کامیاب بنانے والے پٹھان ہیں، پاکستان کو پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچ سب نے مل کر بنایا، کسی ایک قوم کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ فواد چوہدری کو پٹھان قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور ایسی سوچ سے حقیقی آزادی حاصل کرنی چاہیے۔دوسری جانبپاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت نے سکیورٹی انتظامات کرنا شروع کر دیئے، شہر میں داخلی راستوں پر کنٹینرز لگانے کے ساتھ ساتھ ریڈ زون میں سکیورٹی وال کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی۔وفاقی دارالحکومت میں پی ٹی آئی کے ممکنہ دھرنے اور لانگ مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نے بھی سکیورٹی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، فیض آباد سمیت شہرمیں داخلی راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے جبکہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنے کے لئے تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز لگانے کے ساتھ نادرا چوک پر سکیورٹی وال کی تعمیر بھی جاری ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎