فواد چوہدری کے قابل اعتراض ٹویٹ نے سیاست کی اخلاقی اقدار پر سوالات اٹھا دئیے

  بدھ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2022  |  14:23

اسلام آ باد ( مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے قابل عتراض ٹویٹ نے سیاست کی ا خلاقی اقدار پر سوالات اٹھا دئیے ہیں،روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر کےمطابق انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم اداروں کو سیاست سے باہر کیسے consider کریں، آپ TV پر فل ڈرامہ بن جاتے ہیں

اتنے معصوم بن جاتے ہیں جیسے آپکو کچھ پتہ ہی نہیں جنہوں نے فیصلے کرنے ہیں انہوں نے ہی کرنے ہیں، مریم نواز، رانا ثناء وغیرہ کی کیا حیثیت ہے یہ بیچارے اپنے قد سے اوپر کی باتیں کرتے ہیں اپنے قد کے مطابق باتیں کیا کریں آپ جس ڈنڈے پر بیٹھے ہیں اندر باہر بھی ہو سکتا ہے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے انکے جواب میں ٹویٹ کیا ہے کہ تم آو تو سہی چھپ کر نہ بیٹھ جانا، اسلام آباد پر چڑھائی کر کے دکھاؤ،میرا بھی تم سے وعدہ ہے،سیا سی حلقوں نے اس اخلاقی گراوٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم ازکم خواتین کا ہی احترام کر لیا جا ئے، فواد چوہدری نے مریم نواز کا بھی نام لیا ہے اور انکےبارے میں جو زبان استعمال کی ہے وہ قابل افسو س بلکہ قابل مذمت ہے،ملک کی سیا سی قیادت کو اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنی چا ہئے،اس ٹویٹ نے ملک کی جمہوری اور اخلاقی اقدار کو ملیا میٹ کردیا ہے یہ زبان اگر قومی سیا ست میں ا ستعمال کرنے کا ر جحان اپنا لیا گیا تو کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی،وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے فواد چوہدری کے ٹویٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نے اپنے ٹویٹ میں جس طرح کی غیر شائستہ اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کی ہے وہ انکے اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے اس طرح کی عامیانہ زبان اور لب و لہجے نے ریاست مدینہ کے دعویداروں کی قلعی کھول دی ہے اس رویہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎