منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے مشکل کی گھڑی میں پاکستانیوں کو اکیلا نہ چھوڑا ، مزید بڑی امداد موصول ہو گئی ،پاکستانیوں کا دل جیت لیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے لیے چین کی جانب سے مسلسل امدادکی کوششیں 644.1 ملین آر ایم بی ( 90.2 ملین امریکی ڈالر)سے تجاوز کر گئیں ۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان کے بڑے حصے سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور 33 ملین سے زیادہ لوگ مون سون کی بارشوں سے آنے والے

غیر معمولی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، چینی سفارتخانے نے چین کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں جن کے مطابق چینی حکومت نے 400 ملین آر ایم بی، چینی فوج نے 100 ملین آر ایم بی، چائنیز پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز نے 125 ملین آر ایم بی اور چین کی ریڈ کراس سوسائٹی نے 2.1 ملین آر ایم بی کی امداد فراہم کی۔گوادر پرو کے مطابق چینی سفارتخانے ایک بیان میں کہا کہ چین میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادسیلاب سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کے لیے متحرک ہیں۔ آفت کے وقت چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔گوادر پرو کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلاب سے ملک میں 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور ساتھ ہی 1678 افراد ہلاک اور 12864 زخمی ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی تازہ ترین معلومات کے مطابق، 2,045,349 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ سیلاب سے 13,074 کلومیٹر سڑکوں اور 410 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پاکستان میں قائم کئی چینی کمپنیاں بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ چینی حکومت کی جانب سے بھی بحالی کی سرگرمیوں میں مدد کی توقع ہے۔گوادر پرو کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر پاکستانی حکام نے بار بار صدر شی جن پنگ اور چین کی حکومت کا اس نازک وقت میں

مخلصانہ کوششوں اور مالی امداد پر گہرا شکریہ ادا کیا ہے۔ چین اور پاکستان قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کی مدد کرنے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے بیجنگ کی جانب سے جاری امداد نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چین ایک مخلص دوست اور دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…