محافظوں سے سوال پوچھتا ہوں کہ اگر ڈاکو ایک گھر کو لوٹ رہے ہوں تو کیا چوکیدار کہہ سکتا ہے کہ میں نیوٹرل ہوں؟ عمران خان نے اعلان جنگ کر دیا

  جمعہ‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2022  |  19:33

پشاور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم ہاس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے پاس حساس معلومات چلی گئی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ایڈورڈ کالج میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر نیوٹرلز کا کام،

سوشل میڈیا کے لوگوں کو پکڑ کر دبانا اور میڈیا کو بند کرنا ہے، تو ملک کے مفادات کی حفاظت کون کرے گا؟انہوں نے کہاکہ میں ملک کے محافظوں سے سوال پوچھتا ہوں کہ اگر ڈاکو ایک گھر کو لوٹ رہے ہوں تو کیا چوکیدار کہہ سکتا ہے کہ میں نیوٹرل ہوں؟ گھر والے کیا کہیں گے، میرا گھر لوٹا جارہا ہے اور چوکیدار کہتا ہے میں نیوٹرل ہوں، پاکستان لوٹا جا رہا ہے، ہمارا ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، وہاں سے کہتے ہیں کہ ہم تو نیوٹرل ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے پاس حساس معلومات چلی گئی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر نیوٹرلز کا یہ کام ہے کہ سوشل میڈیا کے لوگوں کو پکڑ کر دبا، میڈیا کو بند کرو، اگر تم یہ کرنا ہے کہ تو ملک کے مفادات کی حفاظت کون کرے گا؟عمران خان نے کہا کہ اپنے ذہن میں ڈال لو کہ جب بھی کوئی کہے کہ میں غیر سیاسی نہیں ہوں تو سمجھ لو کہ اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے، جانور غیر سیاسی ہوتا ہے، شیر ایک ہرن کو پکڑ لیتا ہے، باقی ہزاروں ہرن کیونکہ غیرسیاسی ہوتے ہیں اس لیے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اوپر والے کا حکم ہے کہ اس طرح کی ناانصافی ہو تو سب شہری کھڑے ہوں، جب ظلم کا مقابلہ کرتے ہیں تو ظلم ختم ہو جاتا ہے، اور جب ظلم کے سامنے سر جھکاتے ہیں، معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، جس ملک میں ڈاکوؤں کو بار بار این آر او ملتا ہے، انصاف کا نظام پکڑ نہیں سکتا،

ملک کے محافظ جو اپنے آپ کو طاقت ور بنا کر بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نیوٹرل ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ امپورٹڈ کرپٹ حکومت کے خلاف کال دے رہا ہوں، اگر اکیلے بھی ان کے خلاف نکلنا پڑے تو نکلوں گا، ساری قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے کسی چیز کا خوف نہیں، مجھے جیل کا خوف ہے نہ اپنی جان قربان کرنے کا، قوم کو بھی خوف نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ قوم پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے،

میں کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور میں اپنی قوم کو تیار کروں گا، میری کال کا انتظار کرنا، جب میں کال دوں گا، انشا اللہ اس کے بعد کوئی واپسی نہیں ہوگی۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ مہذب معاشروں اور وحشیانہ معاشروں میں فرق صرف قانون و انصاف کی بالا دستی کا ہوتا ہے، جنگل اور مہذب دنیا میں فرق صرف قانون کی بالادستی کا ہے، مہذب معاشروں میں سب عوام قانون کے تابع ہوتے ہیں، کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہوتا،

دنیا کے سب سے لیڈر اور رہنما نبی ؐ نے کہا کہ تھا کہ پہلے کی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کیونکہ وہ کمزور کو سزا دیتے تھے اور طاقتور کو این آر او دیتے تھے، ریاست مدینہ کی بنیاد بھی قانون کی بالادستی کی بنیاد پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تباہی کا راستہ ہمارے سامنے ہے کہ بڑے بڑے ڈاکو جو چوری کرکے پیسا باہر لے کرگئے، ان کے کیسز ختم کیے گئے، پانامہ پیپرز میں پکڑے گئے لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں واقع اربوں روپے کے مے فیئرز کے 4 اپارٹمنٹس، جن کے بارے میں مریم نواز سے پوچھا گیا تو اس نے کہا میرے لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی اثاثے نہیں ہیں،

جب پانامہ میں اپارٹمنٹ پکڑے گئے تو نواز شریف کے صاحبزادے نے کہا کہ ان کی مالکہ مریم نواز ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی عدالتوں نے مریم نواز کو بری کردیا ہے، آج ہم سارے سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیوں ہوا ہے، اگر اسی طرح سارے کیسز ختم ہوتے رہے تو ایسے ملک میں کوئی مستقبل نہیں ہے، جس ملک میں اس طرح کی لوٹ مار اور کرپشن ہو، اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس قوم کا چوری کیا گیا 11 سو ارب روپیہ معاف کیا جا رہا ہے، قوم آج تاریخ کی بد ترین مہنگائی میں ڈوب رہی ہے، قوم نیچے جا رہی ہے، قرضوں میں ڈوب رہی ہے، معیشت تباہ ہو رہی ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎