جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بھارت میں 20 ہزار کروڑ روپے کی شاہی جائیداد کے مقدمے کا تاریخی فیصلہ

datetime 14  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (آئی این پی )بھارت کی سپریم کورٹ نے پنجاب کی ریاست فریدکوٹ کے سابق مہاراجہ ہریندر سنگھ براڑ کی 20 ہزار کروڑ روپے کی شاہی جائیداد کے 30 برس سے جاری وراثت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مہاراجہ کی دو بیٹیوں کو ان کی بیشتر جائیداد کا وارث قرار دیا ہے۔ان کے اثاثوں میں پنجاب، دلی، ہماچل پردیش، چندی گڑھ اور ہریانہ میں زمینیں، قلعے، زیورات، قدیم

قیمتی کاریں اور بڑا بینک بیلنس شامل ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے فرید کوٹ ریاست کے نگہبان ٹرسٹ مہروال کھیوا جی ٹرسٹ کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے دو برس قبل ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں مہاراجہ کی بیٹیوں کو ان کی املاک کا وارث قراد دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یو یو للت کی قیادت میں تین ججز کے ایک بینچ نے 30 برس سے جاری اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئیمہاراجہ کی املاک کا بیشتر حصہ ان کی دو بیٹیوں امرت کور اور دیپندر کور کے حوالے کرنے کا فیصلہ گذشتہ ہفتے سنایا ہے۔سابق مہاراجہ کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں میں فرید کوٹ میں واقع 14 ایکڑ پر بنا ہوا راج محل بھی شامل ہے۔ محل کی زمین کے ایک حصے پر ایک 150 بستروں کا ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے۔دوسری املاک میں فریدکوٹ میں 10 ایکڑ اراضی پر بنا ہوا قلعہ مبارک بھی شامل ہے۔دلی میں پارلیمنٹ سے کچھ مسافت پر فرید کوٹ ہائوس بھی ان کی املاک میں شامل ہے۔

مرکزی حکومت نے ساڑھے 17 لاکھ روپے ماہانہ پر اسے لیز پر دے رکھا ہے۔ دس برس پہلے اس جائیداد کی مالیت کا تخمینہ 1200 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔پنجاب کی فریدکوٹ ریاست کے مہاراجہ ہریندر سنگھ براڑ سنہ 1918 میں تخت نشین ہوئے تھے۔ انھوں نے نریندر کور سے شادی کی۔ ان کے یہاں تین بیٹیاں امرت کور، دیپندر کور اور مہیپندر کور اور ایک بیٹا ٹکا ہر موہندر سنگھ پیدا ہوئے۔

سنہ 1981 میں بیٹے کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیٹیکی موت کے بعد سابق مہاراجہ ڈپریشن کا شکار ہوئے اور اسی دورانیے میں ان کی ایک وصیت سامنے آئی جس میں ان کے اثاثے ایک ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…