پیر‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2025 

وزارت تجارت نے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دے دی

datetime 29  اگست‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) وفاقی وزارت تجارت نے ملک میں سبزیوں کی پیداوار متاثر ہونے کے باعث پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دے دی۔وفاقی وزارت تجارت کے اجلاس میں حالیہ بارشوں سے سبزیوں کی پیداوار متاثر ہونے اور مارکیٹ میں قلت کی صورتحال پر غور کیا گیا،

اجلاس کی صدارت وفاقی سیکریٹری تجارت نے کی جس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ایف بی آر کے اعلی افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ایران، ترکی اور افغانستان کے سفارتی نمائندوں نے بھی شرکت کی اور اپنے ملکوں میں پیاز، ٹماٹر اور سبزیوں اور اجناس کی قیمتوں اور سرپلس کے بارے میں آگاہ کیا۔پی ایف وی اے کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹل امپورٹرز ایکسپورٹرز مرچنٹس ایسوسی نے فوری طور پر پیاز ٹماٹر کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کے خاتمہ کی تجویز دی تھی جس پر حکومت نے بروقت فیصلہ کیا جس کے بعد امپورٹرز نے مارکیٹ میں استحکام کے لیے تین ماہ کی مدت کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی چھوٹ کی تجویز بھی دی تھی۔وفاقی وزارت تجارت نے امپورٹ پر تین ماہ کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اجلاس میں پی ایف وی اے نے بھارت سے بھی پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت کی تجویز دی۔وحید احمد کے مطابق زمینی راستہ سے پیاز اور ٹماٹر پاکستان کی منڈیوں تک زیادہ جلدی پہنچ سکتے ہیں تاہم افغانستان اور ایران پاکستان کی طلب اکیلے پوری نہیں کرسکتے، اس لیے ضروری ہے کہ بھارت سے بھی درآمد کی اجازت دی جائے۔

پی ایف وی اے نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے فوری طور پر ریلیف پیکج کی بھی تجویز دی جس میں کھاد، بیجوں کی مفت فراہمی، مالی معاونت اور بلاسود قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بھارت سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کی تاحال اجازت نہیں دی ہے دیگر ملکوں سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کے لیے منگل سے سودے طے کرنا شروع کر دیں گے۔وحید احمد نے بتایا کہ سیلاب سے سندھ میں پیاز کی 80 فیصد سے زائد فصل برباد ہوگئی جبکہ ٹماٹر کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، بلوچستان میں پیاز کے سیزن کے دوران طوفانی بارش اور سیلاب سے پیاز کی فصل تباہ ہوگئی جس سے مارکیٹ میں پیاز اور ٹماٹر کی خوردہ قیمت 200 روپے تک پہنچ گئی ہے اور مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔

موضوعات:



کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…