وفاقی دارالحکومت میں منی مارکیٹ کریش، ڈالر 207 کا رہ گیا

  ہفتہ‬‮ 13 اگست‬‮ 2022  |  11:52

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی منی مارکیٹ کریش کر گئی‘ جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی کے منی چینجرز کی دکانوں پر ڈالرز بیچنے والوں کا تانتا بندھا رہا جبکہ خریدار کوئی نہ تھا۔ روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق اگرچہ انٹربینک ریٹ آئی ایم ایف کی طرف سے توثیق کا خط ملنے کے نتیجے میں 219روپے سے ایک دن میں ڈالر 4روپے گر کر

215روپے فی ڈالر تک پہنچا۔ پاکستان کے منی چینجرز کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ انٹربینک ریٹ سے دو چار روپے اوپر ڈالر فروخت کرتے ہیں‘ مگر جمعہ 12اگست کو یہ دلچسپ منظر نامہ بلیو ایریا اسلام آباد‘ ایف ٹین مارکیٹ‘ جناح سپر مارکیٹ‘ ایف الیون مارکیٹ‘ آبپارہ مارکیٹ میں دیکھنے کو ملا کہ جس جگہ لوگوں کی بھیڑ تھی وہاں جا کر پتہ چلا کہ یہاں لوگ ڈالر بیچنے کیلئے جمع ہوئے ہیں مگر منی چینجرز اس خیال سے کہ چونکہ یکم اگست 2022ء سے ڈالر دو سو چالیس اور دو سو پچاس روپے سے مسلسل گرتا چلا آ رہا ہے اور کراچی مارکیٹ میں 213روپے سے بھی کم کا رہ گیا ہے‘ اس لئے منی چینجرز نے 213‘ 212‘ 211‘ 210حتیٰ کہ 209روپے کا بھی ڈالر خریدنے سے انکار کر دیا اور شام کے وقت منی چینجرز نے انتہائی مجبور ڈالر فروخت کرنے والوں سے 207روپے کا بھی ڈالر خریدا کیونکہ اُن کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ڈالر ہفتہ اتوار اور پیر کو مزید کم قیمت کا ہو گا اور یہ 24اگست سے پہلے ہی200روپے سے کم میں ڈالر ملنے لگیں گے۔

منی چینجرز نے عندیہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے 24اگست کو ایک ارب 17کروڑ ڈالر کی پہلی قسط کے اجراء کا فیصلہ ہوتے ہی ڈالر پاکستان میں 200سے بھی کم ہو کر 189روپے اور اس سے بھی کم ہو جائیگی کیونکہ آئی ایم ایف کے ایک ارب 17کروڑ ڈالرز ہی نہیں ملیں گے بلکہ برادر ہمسایہ آزمودہ دوست ملک چین‘ اسلامی برادر ممالک سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر اور انٹرنیشنل فنانس انسٹی ٹیوشنز بشمول عالمی بینک‘ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک‘ اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی پاکستان کو مہینوں سے رُکے ہوئے اربوں ڈالرز کے فنڈز حاصل ہونا شروع ہو جائینگے۔

جولائی کے آخری ہفتے میں ڈالر بڑھتا ہوا 245سے 250تک حتیٰ کہ فارورڈ خریداری میں 254روپے تک چلا گیا تھا لیکن 12اگست کو ڈالر کی خریداری عمومی طور پر 211روپے میں ہوتی رہی اور منی چینجرز بڑے شہروں میں 214روپے میں تین روپے منافع لیکر بیچتے رہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

پاکستان کا المیہ کیا ہے؟

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎