اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

دعاء زہرا کیس ، 80سالہ خاتون بھی گرفتار، رورو کر بے گناہی کی دہائی

datetime 10  جون‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)پولیس نے دعا زہرا کیس میں 80 سالہ خاتون کو بھی گرفتار کرلیا ، بزرگ خاتون عدالت پیشی پر رورو کربے گناہی کی دہائی دیتی رہیں۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں دعا زہرا کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،

کیس میں گرفتار خاتون سمیت 12ملزمان عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان میں 80 سالہ بزرگ خاتون فدا بی بی شامل ہیں جبکہ دیگر گرفتار ملزمان میں آصف ، مقبول احمد ،نذیر احمد ،محمد انیس ،اصغر ، جہانگیر ،محمد عمر ،قدیر ،محمد احمد ،غلام مصطفی،غلام نبی شامل ہیں۔بزرگ خاتون عدالت پیشی پررورو کربیگناہی کی دہائی دیتی رہیں ، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ظہیرکی خالہ کے نام پرسم رابطے کے لئے استعمال ہوئی، دعا اور ظہیر خالہ کے گھر بھی رکے تھے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ بزرگ خاتون کا کہنا ہے انہوں نے دعا اورظہیرکو گھر نہیں رکنے دیا، سم ان کے داماد کے زیر استعمال ہے ، ظہیر کے رشتے داروں کو سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔عدالت نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ کیس کا مرکزی ملزم ظہیرکہاں ہے ،ڈی ایس پی شوکت نے بتایا کہ میں تفتیشی افسرنہیں ہوں انکی طبیعت خراب ہے، جس پر عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو فوری طلب کرلیا۔وکلا مدعی مقدمہ نے کہا کہ لڑکی کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا ہے ، والد کا کہنا تھا کہ آج سٹی کورٹ میں دعا کا 164 کا بیان ہونا تھا لیکن پولس نے دعا کو لاہور بھیج دیا۔مہدی کاظمی نے کہا ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ دعا کو ٹرائل کورٹ میں پیش کرنا ہے اور میڈکل رپورٹ جسے ہم نے چیلنج کیا ہے اسکا بورڈ بننا تھا اور میڈیکل دبارہ ہونا تھا، ہم نے اس پر ایک درخواست ڈالی ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ظہیر کو ہائی کورٹ میں پیش کرنے کے بعد یہاں بھی پیش ہونا تھا لیکن ہو نہیں ہوا، پولیس کیس کو خراب کررہی ہے ، ہماری یہ ڈیمانڈ ہے کہ ظہیر کو حراست میں لینا چاہئے۔عدالت نے نکاح خواں غلام مصطفی ،گواہ علی اصغر کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیااور گرفتار 10ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔عدالت کا ملزمان کا نام مقدمہ سے خارج کرنے اور ملزمان کو ذاتی مچلکے جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیش میں ضرورت پڑنے پر ملزمان کوپولیس سے تعاون کی ہدایت کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…