پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

عامر لیاقت کے انتقال سے متعلق ملازم کے اہم انکشافات

datetime 9  جون‬‮  2022 |

کراچی (مانیٹرنگ، این این آئی) رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال پر ان کے ملازم کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ رات ملک چھوڑنے کی تیاری کررہے تھے جبکہ اس دوران بہت روئے جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق ملازم کا کہنا تھا کہ

جب سے دانیہ شاہ سے ان کے معاملات خراب ہوئے تھے وہ ہروقت ٹینشن میں رہتے تھے، شدید ڈپریشن کا شکار تھے جس کے باعث ان کی طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی۔دوسری جانب ایم این اے عامر لیاقت حسین کے ڈرائیور جاوید نے کہا ہے کہ انہوں نے عامر لیاقت کے اہلخانہ کو انتقال کی اطلاع دی، اہلخانہ نے کہا گھر جا ؤاور پولیس کو بیان ریکارڈ کراؤ۔عامر لیاقت کے ملازم ممتاز کے مطابق گھر میں اچانک جنریٹر کا دھواں بھرا تو میری سانس بند ہوئی، ڈرائیور جاوید کی آواز آئی کہ عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ملازم ممتاز نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ میں ڈرائیور جاوید اور عامر لیاقت گھر میں موجود تھے، 2 گھنٹے سے بجلی بند تھی، جنریٹر چل رہا تھا۔ممتاز نے اپنے بیان میں بتایا کہ اچانک جنریٹر کا دھواں بھرا تو میری سانس بند ہوئی، میں گھر کا مرکزی دروازہ کھول کر باہر آیا، پھر ڈرائیور جاوید کی آواز آئی کہ عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ملازم ممتاز کے مطابق ڈرائیور جاوید کے ساتھ مل کر میں نے عامر لیاقت کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد ہم کمرے میں داخل ہوئے تو عامر لیاقت صوفے پر بے ہوش پڑے تھے۔ممتاز نے بتایا کہ ہم نے عامر لیاقت کی حالت دیکھ کر پولیس اور ریسکیو کو اطلاع دی۔ملازم ممتاز کے مطابق ہم نے جنریٹر ایک ہفتہ قبل ہی خریدا تھا، لیکن کچھ دنوں سے خراب چل رہا تھا۔

عامر لیاقت کے ڈرائیور جاوید نے کہا کہ 7 سال سے عامر لیاقت کے ساتھ کام کررہا ہوں، دھواں بھرنے سے میری اور عامر بھائی کی طبیعت خراب ہوئی۔ڈرائیور جاوید نے کہا کہ میں نے ممتاز اور باہر موجود دکانداروں کو آواز دی، ہم واپس عامر لیاقت کے کمرے میں ان کے پاس پہنچے تو وہ گرے ہوئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو کو فوری بلایا اور انہیں اسپتال منتقل کیا، میں ایمبولینس میں عامر لیاقت کے ساتھ تھا، اسپتال جاکر معلوم ہوا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…