بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

عامر لیاقت کے انتقال سے متعلق ملازم کے اہم انکشافات

datetime 9  جون‬‮  2022 |

کراچی (مانیٹرنگ، این این آئی) رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال پر ان کے ملازم کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ رات ملک چھوڑنے کی تیاری کررہے تھے جبکہ اس دوران بہت روئے جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق ملازم کا کہنا تھا کہ

جب سے دانیہ شاہ سے ان کے معاملات خراب ہوئے تھے وہ ہروقت ٹینشن میں رہتے تھے، شدید ڈپریشن کا شکار تھے جس کے باعث ان کی طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی۔دوسری جانب ایم این اے عامر لیاقت حسین کے ڈرائیور جاوید نے کہا ہے کہ انہوں نے عامر لیاقت کے اہلخانہ کو انتقال کی اطلاع دی، اہلخانہ نے کہا گھر جا ؤاور پولیس کو بیان ریکارڈ کراؤ۔عامر لیاقت کے ملازم ممتاز کے مطابق گھر میں اچانک جنریٹر کا دھواں بھرا تو میری سانس بند ہوئی، ڈرائیور جاوید کی آواز آئی کہ عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ملازم ممتاز نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ میں ڈرائیور جاوید اور عامر لیاقت گھر میں موجود تھے، 2 گھنٹے سے بجلی بند تھی، جنریٹر چل رہا تھا۔ممتاز نے اپنے بیان میں بتایا کہ اچانک جنریٹر کا دھواں بھرا تو میری سانس بند ہوئی، میں گھر کا مرکزی دروازہ کھول کر باہر آیا، پھر ڈرائیور جاوید کی آواز آئی کہ عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ملازم ممتاز کے مطابق ڈرائیور جاوید کے ساتھ مل کر میں نے عامر لیاقت کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد ہم کمرے میں داخل ہوئے تو عامر لیاقت صوفے پر بے ہوش پڑے تھے۔ممتاز نے بتایا کہ ہم نے عامر لیاقت کی حالت دیکھ کر پولیس اور ریسکیو کو اطلاع دی۔ملازم ممتاز کے مطابق ہم نے جنریٹر ایک ہفتہ قبل ہی خریدا تھا، لیکن کچھ دنوں سے خراب چل رہا تھا۔

عامر لیاقت کے ڈرائیور جاوید نے کہا کہ 7 سال سے عامر لیاقت کے ساتھ کام کررہا ہوں، دھواں بھرنے سے میری اور عامر بھائی کی طبیعت خراب ہوئی۔ڈرائیور جاوید نے کہا کہ میں نے ممتاز اور باہر موجود دکانداروں کو آواز دی، ہم واپس عامر لیاقت کے کمرے میں ان کے پاس پہنچے تو وہ گرے ہوئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو کو فوری بلایا اور انہیں اسپتال منتقل کیا، میں ایمبولینس میں عامر لیاقت کے ساتھ تھا، اسپتال جاکر معلوم ہوا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…