جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عالمی بینک نے غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

datetime 9  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی)عالمی بینک نے غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بہت سے ممالک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے، رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا ،توانائی سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوسکتاہے،میڈیارپورٹس کے مطابق

عالمی بینک کی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق عالمی بینک کے سربراہ ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ بہت سے ممالک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ افراط زر میں حالیہ اضافہ طویل عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ ہے، سرمایہ کاری میں کمی شرح نموکو ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک متاثر رکھے گی۔عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے جنوری میں سن 2022 کے لئے شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال یعنی 2023 اور 2024 کے لیے پیداواری شرح میں صرف تین فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیا کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ سن 1980 کی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔

عالمی بینک نے جاری کی گئی اپنی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ میں خبردار کیاکہ اضافی منفی اعشاریے عالمی معیشت کی سن 1970 کی دہائی کے اسٹیگ فلیشن کے دور کا تجربہ دہرانے کے امکانات میں اضافہ کریں گے۔ ڈیوڈ مالپاس کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں کمزور سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک برقرار رہے گی۔

مالپاس کا مزید کہنا تھاکہ اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے، اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصیتک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔عالمی بنک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کووڈ لاک ڈان اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے نجات پا رہی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا۔اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ ڈیوڈ مالپاس کے مطابق غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کے قحط پھیلنیکا شدید خطرہ ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…