جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

عالمی بینک نے غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

datetime 9  جون‬‮  2022 |

نیویارک(این این آئی)عالمی بینک نے غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بہت سے ممالک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے، رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا ،توانائی سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوسکتاہے،میڈیارپورٹس کے مطابق

عالمی بینک کی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق عالمی بینک کے سربراہ ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ بہت سے ممالک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ افراط زر میں حالیہ اضافہ طویل عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ ہے، سرمایہ کاری میں کمی شرح نموکو ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک متاثر رکھے گی۔عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے جنوری میں سن 2022 کے لئے شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال یعنی 2023 اور 2024 کے لیے پیداواری شرح میں صرف تین فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیا کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ سن 1980 کی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔

عالمی بینک نے جاری کی گئی اپنی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ میں خبردار کیاکہ اضافی منفی اعشاریے عالمی معیشت کی سن 1970 کی دہائی کے اسٹیگ فلیشن کے دور کا تجربہ دہرانے کے امکانات میں اضافہ کریں گے۔ ڈیوڈ مالپاس کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں کمزور سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک برقرار رہے گی۔

مالپاس کا مزید کہنا تھاکہ اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے، اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصیتک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔عالمی بنک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کووڈ لاک ڈان اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے نجات پا رہی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا۔اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ ڈیوڈ مالپاس کے مطابق غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کے قحط پھیلنیکا شدید خطرہ ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…