پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

بے نظیر بھٹوکیوی وزیراعظم کی آئیڈیل امریکامیں خطاب کا آغازبھی نام سے کیا

datetime 27  مئی‬‮  2022 |

واشنگٹن (این این آئی )آج کی دنیا میں کامیاب ترین وزیراعظم سمجھی جانے والی جیسنڈا آرڈرن کی آئیڈیل پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ہیں، جس کا اظہار انہوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کے خطاب کے دوران کیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو ہارورڈ یونیورسٹی میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، جہاں انہوں نے جمہوریت پر خطاب دیتے ہوئے اس کی شروعات بینظیر بھٹو سے کی، کہاکہ بے نظیر بھٹو کی کئی سالوں پہلے کہی گئی باتیں آج کے دور میں بھی جمہوریت کا حقیقی راستہ ہیں۔جیسنڈا آرڈرن نے اپنے خطاب کا آغاز ہی پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے نام سے کیااور کہا کہ جون 1989 میں پاکستان کی وزیراعظم یہاں آئیں اور انہوں نے جمہوری قوموں کو متحد ہونا چاہیے پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنے سفر اور شہریت کی اہمیت، حکومتی نمائندہ ، انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں بات کی۔جیسنڈا نے بتایا کہ ان کی 2007 میں بینظیر بھٹو سے جنیوا میں ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی تھی، جس میں دنیا بھر سے ترقی پسند جماعتوں کو اکٹھا کیا گیا تھا، اور اس کے صرف سات ماہ بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنما کے طور پر ہم سب کے بارے میں تاریخ میں مختلف نقطہ انداز میں لکھا جائے گا، لیکن بینظیر بھٹو کے بارے میں دو چیزیں جن کا تاریخ مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ وہ ایک اسلامی ملک میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم تھیں، جب اقتدار میں عورت ایک کا آنا انتہائی نایاب تھا۔دوسرا یہ کہ وہ پہلی خاتون تھیں جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بچے کی ماں بنیں۔ ان کے 30 سال بعد میں وہ واحد خاتون لیڈر ہوں

جس نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بیٹی کو جنم دیا۔انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ ان کی بیٹی کی پیدائیش 21 جون 2018 کوہوئی جو بینظیر بھٹو کی بھی پیدائش کا دن ہے

۔ایک عورت کے طور پر انہوں نے جو راستہ بنایا وہ آج بھی اتنا ہی مشکل محسوس ہوتا ہے جتنا کہ دہائیوں پہلے تھا، اور اسی طرح وہ پیغام بھی ہے جو انہوں نے دیا۔

جیسنڈرا نے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو نے 1989 میں اسی جگہ کھڑے ہو کر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت بہت نازک ہوتی ہے

۔میں یہ ان کے یہ الفاظ ویلنگٹن، نیوزی لینڈ میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر پڑھے، جو پاکستان سے بہت دور ہے، تب انہوں نے یہ بات مختلف حالات میں کہی ہو گی لیکن آج کے دور میں بھی یہ سچ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بتایا ہوا نامکمل لیکن قیمتی طریقہ جس سے ہم خود کو منظم کر سکتے ہیں، جو کمزوروں اور مضبوطوں کو یکساں آواز دینے کے لیے بنایا گیا ہے،

جو اتفاق رائے کو آگے بڑھانے میں مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ بہت نازک ہے۔جیسنڈرا نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد میں اداروں، ماہرین اور حکومت پر بھروسہ شامل ہے جو کئی دہائیوں میں استوار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بھروسہ محض چند برسوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…