جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سعودی عرب کے دورے پر موجود ترک صدر کا شہباز شریف کو ملاقات کا پیغام لیکن دونوں رہنما کیوں نہ مل سکے؟ تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 29  اپریل‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض (مانیٹرنگ، این این آئی) ترک صدر طیب اردوان جو سعودی عرب کے دورے پر آئے ہوئے ہیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا، ملاقات کا پیغام بھی بھجوایا لیکن یہ ملاقات ٹائمنگ کے مسائل کی وجہ سے نہ ہوسکی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا استقبال کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس موقع پرگفتگو اور ٹویٹر پر متعدد ٹویٹس میں ترک صدر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے بات کی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔یہ کہ ترکی کی سلامتی اور استحکام۔ خلیج کی کی سلامتی اور استحکام کا حصہ ہے۔شاہ سلمان نے جدہ کے السلام محل میں ترک صدر کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے۔سعودی میڈیانے مزید بتایا کہ ترک صدر کے لیے باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جہاں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس کے بعد شاہ سلمان ترک صدر کے ہمراہ شاہی دربار کے مرکزی استقبالیہ ہال میں گئے۔شاہ سلمان نے ایردوآن اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کا مملکت میں خیرمقدم کیا جب کہ ترک صدر نے مملکت کا دورہ کرنے اور شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔بعد ازاں سعودی ولی عہد نے جدہ کے پیس پیلس میں ترک صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے سعودی عرب۔ ترک تعلقات اور انہیں مختلف شعبوں میں ترقی دینے کے مواقع کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہ نماں کے درمیان خطے کی تازہ ترین صورت حال، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں اور کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔اپنے دورہ سعودی عرب کے بارے میں ترک صدر نے ٹویٹر پربھی متعدد ٹویٹس کیں۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی سلامتی ترکی کی سلامتی کے مترادف ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ ریاض کے ساتھ ہر قسم کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض کے ساتھ صحت، توانائی، فوڈ سیکیورٹی، زرعی ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور مالیات کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہو گا۔

ایردوآن نے مزید کہا کہ ماضی کے مقابلے میں بہتر سطح پر تعلقات کو بڑھانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید اورشفاف توانائی کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہمیں دونوں ممالک میں امکانات نظر آتے ہیں۔ترک صدر کا کہا تھا کہ ہم ہر موقع پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم خلیجی خطے میں اپنے بھائیوں کے استحکام اور سلامتی کو اسی طرح اہمیت دیتے ہیں جس طرح ہم اپنے استحکام اور سلامتی کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات اور تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…