جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

دیوالیہ پن کا شکار سری لنکا کا بیرونِ ملک مقیم شہریوں سے رقم بھیجنے کا مطالبہ

datetime 14  اپریل‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کولمبو(این این آئی)51ارب ڈالر کے قرضوں کے سبب ملک دیوالیہ ہونے کے اعلان کے بعد سری لنکا نے بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں سے رقم بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خوراک اور ایندھن کی رقم کی ادائیگی میں مدد حاصل ہوسکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 1948 میں آزادی کے بعد جزیرہ شدید مالی بحران کا شکار ہے جبکہ اسے ضروری اشیا

کی قلت اور یومیہ بلیک آٹ کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔مرکزی بینک کے گورنر نندلال ویراسنگھ کا کہنا تھا کہ انہیں بیرون ملک مقیم سری لنکن عوام کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ زرمبادلہ کی فراہمی کے ذریعے اس مشکل وقت میں ملک کی مدد کی جاسکے۔گورنر نے کہا کہ انہوں نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں عطیات کے لیے بینک اکانٹ بنایا ہے، انہوں بیرون ملک مقیم سری لنکن شہریوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی رقم وہاں خرچ کی جائے گی جہاں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔اپنے ایک بیان میں نندلال ویرا سنگھ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کا استعمال خوراک،ایندھن اور ادویات سمیت دیگر اشیا ضروریہ کی برآمدات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دیوالیہ پن نے سری لنکا کو 20 کروڑ ڈالر شرح سود کی ادائیگی سے بچا لیا ہے اور رقم اشیا ضروریہ کی برآمدات کے لیے ادا کی جائے گی۔

آسٹریلیا میں مقیم سری لنکن ڈاکٹر نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ہمیں مدد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہمیں اپنی رقم کے حوالے سے حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔کینیڈا میں مقیم سری لنکن سوفٹ ویئر انجینئر نے دسمبر 2004 کے سونامی کے بعد جزیزے کو موصول ہونے والے لاکھوں ڈالرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھروسہ نہیں ہے کہ یہ رقم ضرورت مندوں کے لیے استعمال کی جائے گی، یہ رقم بھی وہیں جاسکتی ہے جہاں سونامی کے فنڈز گئے تھے۔

سونامی کے بعد زندہ بچ جانے والوں کے لیے بھیجے گئے غیر ملکیوں کے عطیات سیاستدانوں کی جیبوں میں گئے تھے جن میں موجودہ وزیر اعظم مہندا راجا پکسے بھی شامل ہیں، جنہیں ان کے اکانٹ میں موجود سونامی کے فنڈ واپس دینے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سری لنکا کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ ان کے ریونیو کا اہم ذریعہ سیاحت اور ترسیلات ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…