کراچی (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین برگیڈئیر(ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کی نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے ملک سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔معاشی صورتحال گھمبیر اورروپیہ کمزور ہو رہا ہے ۔ ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو تو معاشی استحکام ممکن ہی نہیں۔ دگرگوں حالات کی وجہ سے مقامی بزنس مین اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہے ہیں
جبکہ غیر ملکی بزنس مین بھی اپنا ہاتھ روک رہے ہیں جو معیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔ محمد اسلم خان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سٹاک مارکیٹ اور روپیہ دونوں مسلسل گر رہے ہیں اور تجارتی عدم توازن صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ غذائی اشیاء اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی سے معیشت کو لاحق خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیںاور روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔منافع خوری کی وجہ سے وزیر اعظم کنسٹرکشن پیکج آخری سانسیں لے رہا ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔ سیمنٹ کی قیمت ساڑھے آٹھ سو روپے تک پہنچ گئی ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو اسکی قیمت جلد ایک ہزار روہے تک پہنچ جائے گی۔ اسی طرح سرئیے کی قیمت دو لاکھ روپے ٹن سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لکڑی المونیم پینٹ اوردیگر تعمیراتی سامان کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس سے پاکستان میں کنسٹرکشن سرگرمیوں میں پچیس فیصد تک کمی آئی ہے۔ کنسٹرکشن پیکج کے اعلان کے بعد سے سرئیے کی قیمت دگنی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے نجی شعبہ میں بہت سے منصوبے بند ہو گئے ہیں۔دوسری طرف بینکوں کی اکثریت اب بھی عوام کو گھروں کے لئے قرضے دینے پر آمادہ نہیں ہے ۔



















































