بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

مائیکروچپ پر زندہ خردبینی کیڑوں سے سرطان کی شناخت کا انوکھا تجربہ

datetime 21  مارچ‬‮  2022 |

سیئول(این این آئی ) مٹی میں پائے جانے والے کیڑوں کی ایک قسم نیماٹوڈ کہلاتی ہیں اب خردبینی نیماٹوڈ کی ایک قسم کو مائیکروچپ پر رکھ کر کینسر شناخت کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ابتدائی تجربات میں معلوم ہوا کہ خردبینی نیما ٹوڈ سینوریبڈائٹس ایلگنس (سی ایلگنسکو ایک چپ پر رکھا جائے تو وہ پھیھپڑوں کے سرطان سے خارج ہونے والے

کیمیائی مادوں کی جانب زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ غیرسرطانی کیمیکل کی بجائے وہ سرطانی مرکبات کی موجودگی میں رینگ کر ان کے پاس پہنچتے ہیں۔جنوبی کوریا کی میونگی یونیورسٹی کے پروفیسر نیری جینگ اور ان کی ساتھیوں کا اصرار ہے کہ بہت جلد یہ طریقہ ایک باقاعدہ تشخیصی ٹیسٹ بن جائے گا۔اس سے قبل ہم چوہوں اور کتوں کو سرطان کی شناخت کی تربیت دیتے رہے ہیں جس میں کچھ کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ حشرات میں نیما ٹوڈ بھی زبردست ماہر ہوتے ہیں اور غذا بالخصوص بیکٹیریا اور فنجائی وغیرہ کو بھانپ لیتے ہیں۔ اس سے قبل وہ کینسر کے مریضوں کی پیشاب کی جانب بڑھتے دیکھے گئے ہیں۔کینسر کے خلیات میں بطورِ خاص ٹو ایتھائل ون ہیکسانول نامی مرکب موجود ہوتا ہے جو ایک خاص بو کی بنا پر نیماٹوڈ کو کشش کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے ایک چپ بنائی جس کے مرکزی خانے میں ایک ملی میٹر لمبے زندہ نیماٹوڈ رکھے۔ حشرات کو خانے کی مخالف دیواروں پر جمع کیا گیا تھا ۔ پھر ایک کنارے پر سرطانی خلیات کے قطرہ گرایا گیا اور مخالف کنارے غیرسرطانی قطرہ ٹپکایا گیا ۔ ایک گھنٹے بعد دیکھا گیا کہ نیماٹوڈ کینسر والے قطرے کی جانب بھاگے چلے جارہے ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ چھوٹا سا آلہ 70 فیصد درستگی سے کینسر شناخت کرسکتا ہے۔ اگرچہ یہ میڈیکل ٹیسٹ کے لیے تو بہت موزوں نہیں لیکن کیڑوں کی تربیت کے بعد اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نیماٹوڈ مختلف بو اور خوشبو کا اچھا حافظہ رکھتے ہیں۔ پھر ایسے کیڑوں کو پالنا، رکھنا اور تربیت فراہم کرنا بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ یہ تحقیقات سان ڈیاگو میں واقع امریکی کیمیائی سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں بھی پیش کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…