جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان کی” رخصتی ”یقینی ہوگئی سینئر صحافی سلیم صافی نے وجوہات بھی بتا دیں

datetime 12  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ، کالم نگار اور اینکرپرسن سلیم صافی اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کل کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ پیش گوئی اور تجزیہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب کھیل کے رولز معلوم ہوں اور کھیل بھی رولز کے تحت ہورہا ہو۔

یہاں چند افراد کے ہاتھوں میں اس قوم کی تقدیر ہے، ان میں سے کسی ایک فرد کی سوچ میں تبدیلی یا دو افراد کے گٹھ جوڑ سے سارا کھیل الٹ سکتا ہے۔اس لیے کل کے بارے میں کوئی بات یقین کے ساتھ نہیں کی جا سکتی لیکن سرِدست عمران خان کی رخصتی یقینی نظر آتی ہے۔وجوہات اس کی تین ہیں۔ ان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ لائی تھی، وہ بچارہی تھی اور وہی چلا رہی تھی۔ اب اس نے ہاتھ اٹھا کر غیرجانبداری اختیار کر لی ہے۔ اس غیرجانبداری کا نہ صرف وہ خود اعلان کررہے ہیں بلکہ مولانا، زرداری اور نواز شریف سمیت پوری اپوزیشن کو اس کا یقین بھی ہو گیا ہے۔ یوں عمران خان کو پہلی مرتبہ خود حکومت بچانی اور سیاست کرنی پڑرہی ہے جو انہوں نے رَتی بھر نہیں سیکھی۔دوسری وجہ جس کے باعث ہم جیسے طالب علموں کو ان کے جانے کا یقین ہوچکا ہے یہ کہ وہ بدترین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں جو میڈیا اور اپوزیشن کے خلاف ان کی کارروائیوں اور لہجے کے بےقابو ہونے سے عیاں ہے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ خود انہوں نے ان دو چیزوں کی آڑ لینا شروع کردی ہے جو پاکستان کے اندر حکمران اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتا دیکھ کر لیتے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ مجھے ہٹارہا ہے اور دوسرا وہ اسلام کا نام استعمال کرنے لگ جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…