بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی بلاگر کے قتل کی سازش میں ملوث برطانوی شخص کو سزا دی گئی

datetime 12  مارچ‬‮  2022 |

ایمسٹر ڈیم (این این آئی) ہالینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں ملوث 31 سالہ برطانوی شخص محمد گوہر خان کو برطانوی عدالت میں عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ گوہر خان کو پیرول کیلئے درخواست دینے کے اہل ہونے سے پہلے 13 سال سزا کاٹنی ہوگی، حراست میں گزارے گئے دن ان کی سزا میں شمار ہوں گے۔

برطانیہ کے فوجداری قانون ایکٹ 1977 کے سیکشن ون (ون) کے تحت قتل کی سازش ایک جرم ہے، اگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو مجرم کو چند سال سے لے کر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔رواں سال جنوری میں ایک جیوری نے ایک متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے گوہر خان کو روٹرڈیم میں خود ساختہ جلاوطن بلاگر وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کا قصوروار پایا تھا ۔گوہر خان پر گزشتہ سال جون میں وقاص گورایا کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔وقاص گورایا ایک سماجی کارکن ہیں جنہوں نے 2017 میں اسلام آباد میں اپنے اور 5 دیگر بلاگرز کے اغوا ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ دیا تھا۔مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ گوہر خان کو بلاگر وقاص گورایا کے قتل کا کنٹریکٹ پاکستان میں مقیم کچھ لوگوں نے دیا۔استغاثہ نے کہا کہ گوہر خان نے احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کے تحت گزشتہ سال روٹرڈیم کا سفر کیا، انہوں نے وقاص گورایا کے گھر کے باہر جاسوسی شروع کی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ایک آلہ قتل بھی خریدا۔وقاص گورایا کے قتل کے بدلے گوہر خان کو بطور معاوضہ ایک لاکھ پائونڈ کی پیشکش کی گئی۔

استغاثہ نے کہا کہ گوہر خان اس وقت بھاری قرض میں جکڑا ہوا تھا جس کی ادائیگی کیلئے اس کے پاس کا کوئی واضح ذریعہ موجود نہیں تھا۔استغاثہ نے جیوری کو بتایا کہ گوہر خان اس قتل کے ذریعے پیسہ کمانے اور مستقبل میں ایسے مزید حملے کرنے کیلئے پرجوش تھا۔جیوری کو بتایا گیا کہ کس طرح پاکستان میں مقیم مڈل مین مزمل نے مبینہ طور پر 2021 میں گوہر خان سے اس کام کیلئے 80 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا اور اسے 20 ہزار پائونڈ کے اپنے کمیشن کے بارے میں بھی بتایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…