جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

تحریک کی منظوری کیلئے 172 اراکین کی ضرورت،اپوزیشن کے پاس 190 سے 200 اراکین ہیں، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 8  مارچ‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن) اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کروادی ہے جس پر 100سے زائد اراکین کے دستخط ہیں جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کیلئے ریکوزیشن بھی جمع کروادی گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کے بعد عدم اعتماد کی تحریک اور ریکوزیشن جمع کروائیں۔

سابق سپیکر ایاز صادق ، رانا ثناء اللہ ، خواجہ آصف ، سعد رفیق ، مریم اورنگزیب ، شازیہ مری ،نوید قمراور شاہدہ اختر علی سمیت دیگر اراکین نے عدم اعتماد کی تحریک اور ریکوزیشن جمع کروائی جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ہائوس اور عوام کا مینڈیٹ کھو چکے ہیں ان پر اعتماد ختم ہوچکا ہے لہذا اپوزیشن ان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرواتی ہے ۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد پر 100سے زائد اراکین نے دستخط کئے ہیں اب سپیکر پر لازم ہے کہ وہ چودہ دن کے اندر اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں اس کے ایجنڈے پر بھی ہم نے عدم اعتماد کی تحریک رکھی ہے آرٹیکل 95کے تحت یہ تحریک جمع کروائی گئی ہے اور اس پر قومی اسمبلی اجلاس میں بحث ہوگی جس کے بعد اس پر ووٹنگ کروائی جائے گی ۔ اپوزیشن رہنمائوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحریک کی منظوری کے لئے 172اراکین کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس 190سے200اراکین ہیں حکومت کے کئی لوگ ہمارے ساتھ شامل ہیں اس لئے یہ تحریک کامیاب ہوگی ۔ اس تحریک سے متعلق قرارداد بھی ہم نے جمع کروادی ہے جیسے ہی یہ قرارداد منظور ہوگی تو عمران خان اپنی وزیراعظم کی نشست کھو دینگے اور نیا وزیراعظم منتخب کیاجائے گا اس سے پہلے شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا

جس میں عدم اعتماد کی تحریک اور ریکوزیشن پر اراکین کے دستخط کروائے گئے اور انہیں اسلام آباد میں موجود رہنے کیلئے کہا گیا پھر جے یو آئی (ف) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا جس میں جے یو آئی (ف) کے اراکین نے عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے تعاون پراطمینان کا اظہار کیا اور اراکین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اسلام آباد کو نہ چھوڑیں قومی اسمبلی اجلاس کسی بھی وقت بلایا جاسکتا ہے اراکین اس کے لئے تیار رہیں اور کسی بھی حکومتی وزیر یامشیر سے کوئی ملاقات نہ کریں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…