منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

مصنوعی ذہانت نے ڈاکٹروں کی نظروں سے اوجھل قلبی امراض دریافت کرلیے

datetime 26  فروری‬‮  2022 |

لاس اینجلس(این این آئی) ڈاکٹروں اورسائنسدانوں کی ٹیم نے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)استعمال کرتے ہوئے دل کے دو نقائص ایسے دریافت کئے ہیں جو عموما ماہرین کی نظر سے بھی چوک جاتے ہیں۔ان میں ایک مرض ہائپرٹروفِک کارڈیومیوپیتھی اور دوسری کیفیت کارڈیئک ایمیلوئیوڈوسِس ہے اور یہ دونوں ہی جان لیوا ہوتی ہیں۔

لاس اینجلس میں واقع سیڈر سینائی اسمٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں سائنسدانوں اور اطبا کی ایک ٹیم نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے دو قلبی کیفیات دریافت کی ہیں ۔ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ اویانگ نے کہا کہ ان امراض کے شکار مریضوں میں بیماری کی درست شناخت میں سال بلکہ عشرے بھی لگ جاتے ہیں۔ اب اے آئی کی بدولت مرض کے مخصوص پیٹرن دیکھ کر تشخیص کی گئی ہے کیونکہ انسانی آنکھ اسے نہیں دیکھ پارہی تھی۔دو مرحلوں پر مشتمل شناختی عمل میں خاص الگورتھم پر دل کے الٹراسائونڈ کی 34000 ویڈیوز کو آزمایا گیا ۔ یہ ویڈیو ہسپتال اور دیگر اداروں سے لی گئی تھیں۔ اس دوران سافٹ ویئر امراض کی مختلف علامات دیکھ کر تربیت پاتا رہا۔ ان میں دل کے خانوں کے رقبے، قلبی دیوار کی موٹائی اور دیگر معلومات شامل تھیں۔ سافٹ ویئر نے بطورِ خاص ان دو کیفیات کو نوٹ کرکے ڈاکٹروں کو بتایا۔سافٹ وییئر نے کسی ماہر ترین ڈاکٹر کی طرح کام کیا کیونکہ وہ ان تبدیلیوں کو بھی نوٹ کررہا تھا جو شروع میں بہت معمولی ہونے کی بنا پر ڈاکٹر سے بھی اوجھل رہ جاتی ہیں۔

پھر کسی ٹیسٹ کے بغیر ہی بہت درستگی سے مرض کی تشخیص کی گئی جو ایک بڑی پیشرفت ہے۔وجہ یہ ہے کہ سائنسداں ان تبدیلیوں مثلا قلبی دیواروں کی موٹائی کو عمر کے ساتھ کی تبدیلیاں کہتے رہے تھے۔ الگورتھم سافٹ ویئر نارمل اور ابنارمل دل کی بھی شناخت کرسکتا ہے۔ اس طرح پہلے شںاخت سے کئی مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

ہائپرٹروفِک کارڈیومیوپیتھی اورکارڈیئک ایمیلوئیوڈوسِس دونوں بیماریاں مہلک ہیں اور بہت دھیرے دھیرے اپنا قدم جماتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شناخت قدرے مشکل ہوتی ہے۔مصنوعی ذہانت کی بدولت بہت درستگی سے امراض کی شناخت ایک خوش آئند بات ہے جس سے بہت سے افراد کی جان بچانا ممکن ہوگا۔ تاہم اگلے مرحلے میں مریضوں کی بڑی تعداد پر یہ الگورتھم آزمایا جائے گا جس سے اس کی مزید افادیت یا کمی سامنے آسکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…