منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2331ارب کی بلندترین سطح پر پہنچ گیا

datetime 20  فروری‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی)تاجر رہنما و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین نے کہا ہے کہ رواں مالی سال جولائی سے دسمبر2021کے دوران گردشی قرضہ میں 196ارب روپے اضافہ ہوا اور اب تک پاور سیکٹر کا مجموعی قرضہ 2,476ارب روپے تک پہنچ گیا ہے انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے بڑھنے کے باعث

ملک میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت18اگست2018کو توانائی کا گردشی قرض 1100 ارب روپے تھا جو 13نومبر 2020کو 2400ارب روپے تک چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے گردشی قرضے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا باعث اورملکی معیشت پر بوجھ ہیں یہی وجہ ہی کہ بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ ہوشربا اضافے ہورہے ہیں جب حکومت عوام اور صنعتی شعبہ سے بجلی بلوں میں ہر ماہ بجلی کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے اربوں روپے ٹیکس وصول کررہی جس میں نیلم جہلم ٹیکس بھی شامل ہے یہ پراجیکٹ مکمل ہوکر بجلی پیدا کررہا ہے لیکن اس کا ٹیکس آج تک عوام سے ناجائز طور پر وصول کیا جارہا ہے اس رقم کو گردشی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال کیوں نہیں کررہی اور یہ رقم کہاں جارہی ہے؟ ان خیالات کااظہار انہوں نے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ حکومت بجلی کی لاگت میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرضوں کا مسئلہ حل کرے اورعوام اور صنعتی شعبہ سے بجلی بلوں اور ٹیکسوں میں وصول شدہ رقم کو گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال میں لائے، نیزمہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائے اور بجلی،گیس کی قیمتوں میں اضافوں کی بجائے ان میں کمی کرے تاکہ پیداواری لاگت میں کمی سے اشیاء سستی اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف مل سکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…