اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، بڑا ریلیف ملنےکا امکان

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے لیے سہولتیں بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ تجاویز میں ایسے اقدامات شامل ہوں گے جن کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم کرنا ہے۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے کاروباروں کے لیے ایک مخصوص ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی لانے اور ٹیکس ریٹس کو مؤثر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ خرم شہزاد کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران ملکی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 4 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ آئندہ سال یہ شرح بڑھ کر 5 فیصد کے قریب جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونی مالی استحکام کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے آئندہ اقتصادی جائزے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مرتبہ محتاط اور دیرپا معاشی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے مسائل سے بچا جا سکے۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ وہ 24 سرکاری ادارے جو قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں، انہیں نجکاری کے مرحلے سے گزارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افراطِ زر کی شرح جو پہلے 25 سے 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی، اب کم ہو کر تقریباً 5 فیصد کے قریب آ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کی آمدن میں اضافہ ہو، جس سے نہ صرف برآمدات کو فروغ ملے گا بلکہ طویل المدتی معاشی ترقی کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔ ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جس کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11.3 فیصد رہی، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 18 فیصد ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…