منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، بڑا ریلیف ملنےکا امکان

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے لیے سہولتیں بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ تجاویز میں ایسے اقدامات شامل ہوں گے جن کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم کرنا ہے۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے کاروباروں کے لیے ایک مخصوص ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی لانے اور ٹیکس ریٹس کو مؤثر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ خرم شہزاد کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران ملکی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 4 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ آئندہ سال یہ شرح بڑھ کر 5 فیصد کے قریب جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونی مالی استحکام کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے آئندہ اقتصادی جائزے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مرتبہ محتاط اور دیرپا معاشی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے مسائل سے بچا جا سکے۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ وہ 24 سرکاری ادارے جو قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں، انہیں نجکاری کے مرحلے سے گزارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افراطِ زر کی شرح جو پہلے 25 سے 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی، اب کم ہو کر تقریباً 5 فیصد کے قریب آ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کی آمدن میں اضافہ ہو، جس سے نہ صرف برآمدات کو فروغ ملے گا بلکہ طویل المدتی معاشی ترقی کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔ ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جس کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11.3 فیصد رہی، جبکہ عالمی معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 18 فیصد ہونی چاہیے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…