منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

جہانگیر ترین نے اہم حکومتی شخصیت سے ملنے سے انکار کردیا

datetime 15  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اہم حکومتی شخصیت سے ملنے سے انکار کر دیا ہے ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور جہانگیر ترین ملاقات کا تو مجھے علم نہیں لیکن انہوں نے حکومتی جماعت کے اہم رہنما سے ملنے سے انکار کیا ہے ۔

دوسری جانب نجی ٹی وی پرواگرام میں سینئر تجزیہ کار رانا عظیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ابھی بھی ہوا میں ہی ہے ۔ رانا عظیم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے یہ بات چل رہی ہے کہ جہانگیر ترین سے رابطہ ہو گیا میں نے جہانگیر ترین کو فون کیا تو پتہ چلا وہ تو جنوبی پنجاب میں ہیں ، جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ہم حکومت کیساتھ ہیں ۔ خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جہانگیر ترین تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کی دعوت دے دی۔تفصیلات کے مطابق حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے مشن پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی۔نجی ٹی وی اے آروائی کےمطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کی جانب سے گزشتہ رات ہونیوالی ملاقات کوانتہائی خفیہ رکھا گیا، ملاقات میں فضل الرحمان نے جہانگیرترین کو تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کی دعوت دے دی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے وزرا کو اسناد فارغ ہونے کی دلیل ہے،جس کا مطلب کھیل ختم ہو چکا ہے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے رائیونڈ روڈ پر واقعہ مدرسہ جامعہ مدینیہ جدید میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کیا کر رہی ہے کل انہوں نے وزیروں کو اسناد دیں اور اسناد تب دی جاتی ہیں جب لگتا ہے کہ کھیل ختم ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں دنیا نے ہماری معاشی ترقی کو تسلیم کر لیا ہے تو پھر وزیر خزانہ کو کیوں محروم رکھا گیا ہے، اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو پھر وزیر خزانہ کو سرٹیفکیٹ کیوں نہیں دیا گیا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کہتے ہیں او آئی سی بہت اہم تھی بہت اچھی تھی تو پھر وزیر خارجہ کو کیوں محروم رکھا گیا ،کہتے ہیں ہمارا دفاع بہت مضبوط ہے تو پھر پرویز خٹک کو کیوں نہیں سرٹیفکیٹ دیا گیا،انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں ہماری خارجہ پالیسی کامیاب ہے لیکن امریکی صدر فون نہیں اٹھاتا اور چین گئے لیکن چینی قیادت نے ملاقات نہیں کی بلکہ ویڈیو لنک پر بات ہوئی،اگر ویڈیو لنک پر ہی ملاقات کرنی تھی تو پھر ادھر سے ہی کر لیتے، اتنے خرچے کیوں کیے،انہوں نے کہا کہ مہنگائی عروج پر ہے ،پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بم کیوں گریا جارہا ہے عوام تو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے،ہم نے اپنے آنے والے کھیل کا عندیہ دے دیا ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…