جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں انسانی جلد پر زیادہ وقت تک زندہ رہتا ہے، تحقیق

datetime 26  جنوری‬‮  2022 |

ٹوکیو(این این آئی)نئی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں انسانی جلد پر زیادہ وقت تک زندہ رہتا ہے۔ جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں وہ پلاسٹک اور جلد پر زیادہ دیر تک بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اس تحقیق میں لیبارٹری ٹیسٹوں میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون قسم پلاسٹک کی سطح اور انسانی جلد

پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق اس قسم کا بہتر ماحولیاتی اسستحکام اس کے متعدی ہونے کی صلاحیت کو برقررا رکھتا ہے اور اسی کے نتیجے میں اومیکرون کو ڈیلٹا کی جگہ لینے میں مدد ملی اور وہ برق رفتاری سے پھیل گئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کی سطح پر کورونا وائرس کی اصل قسم ایلفا، گیما اور ڈیلٹا کے زندہ رہنے کا اوسط وقت بالترتیب 56 گھنٹے، 191.3 گھنٹے، 156.6 گھنٹے، 59.3 گھنٹے اور 114 گھنٹے ہے۔اس کے مقابلے میں اومیکرون کا وقت 193.5 گھنٹے دریافت ہوا۔جلد کے نمونوں میں وائرس کی اوریجنل قسم کے زندہ رہنے کا اوسط وقت 8.6 گھنٹے تھا جبکہ ایلفا کا 19.6 گھنٹے، بیٹا کا 19.1 گھنٹے، گیما کا 11 گھنٹے، ڈیلٹا کا 16.8 گھنٹے اور اومیکرون کا 21.1 گھنٹے تھا مگر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وائرس کی تمام اقسام الکحل ملے ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال سے 15 سیکنڈ میں مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتی ہیں۔محققین نے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے جیسا عالمی ادارہ صحت نے بھی مشورہ دیا ہے۔اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور bioRxiv میں جاری کیے گئے۔اس سے قبل طبی جریدے جرنل کلینیکل انفیکشیز ڈیزیز میں شائع تحقیق میں بتایا تھا کہ کورونا وائرس انسانی جلد پر 9 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، اس کے مقابلے میں فلو کا باعث بننے والا وائرس انسانی جلد پر 2 گھنٹے تک ہی رہتا ہے،خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی صفائی یا ہینڈ سینی ٹائزر سے یہ دونوں وائرس فوری طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ وائرس براہ راست رابطے پر زیادہ پھیل سکتا ہے کیونکہ یہ فلو وائرس کے مقابلے میں جلد پر زیادہ مستحکم رہتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ہاتھوں کی مناسب صفائی اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اہم ہے۔یہ وائرس نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے اور ہوا میں موجود ذرات سے پھیلتا ہے جو کسی متاثرہ فرد کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہوتے ہیں جو قریب موجود انسان کی ناک یا منہ پر گرتے یا سانس لینے کے دوران اندر چلے جاتے ہیں مگر کسی میں اس سے متاثر ہونے کا خطرہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب وہ کسی ایسی چیز کی سطح کو چھوئے جس پر یہ وائرل ذرات موجود ہوں اور اس کے بعد اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو چھوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…