یہ پاکستانی برقعہ ہے ہمارا نہیں، افغان خواتین نے سڑکوں پر برقعے جلانا شروع کر دیے

  اتوار‬‮ 23 جنوری‬‮ 2022  |  21:06

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) یہ پاکستانی برقعہ ہے ہمارا نہیں، افغان خواتین نے سڑکوں پر برقعے جلانا شروع کر دیے، افغانستان میں عجیب صورتحال چل رہی ہے جس کی آئے روز ویڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں افغان خواتین احتجاج کر رہی ہیں اور اس دوران اپنے حقوق کا بھی مطالبہ کر رہی تھیں، اس موقع پر ایک افغان خاتون نے برقعے کو اٹھا کر کہا کہ یہ پاکستانی اور عرب ثقافت کا حصہ ہے، اس برقعے کو پاکستانی اور عرب ثقافت سے جوڑ دیا


گیا، یہ ٹوپی برقعہ تھا جو افغانستان، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں پہنا جاتا ہے، خاتون نے اس برقعے کو اتارا اور زمین پر رکھ کر اس چلنا شروع کر دیا، ایک اور ویڈیو میں خواتین نے برقعے جلا دیے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎