ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ود ہولڈنگ ٹیکس کے بعد ڈالر 200 روپے سے بھی مہنگا ہونے کا امکان

datetime 20  جنوری‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)ایکسچینج کمپنیوں پر اچانک ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے بعد ڈالر کی قیمت 200 روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان ہے ،کمپنیوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کروڑوں روپے کے نوٹس موصول ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں کے نمائندوں نے بتایا کہ انہیں ایف بی آر کی جانب سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی عدم ادائیگی پر نوٹس جاری کیے جارہے ہیں

جس کو 2016 میں واپس لے لیا گیا تھا۔ٹیکس نوٹسز نے ایکسچینج کمپنیوں میں افراتفری کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ ان کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اضافی قیمت صارفین کو منتقل کی جائے گی جس سے ڈالر کی قیمت 200 روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا کہ انہیں ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ایک ارب سے زیادہ ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز موصول ہو رہے ہیں، جو 2014 میں نافذ کیا گیا تھا اور 2016 میں واپس لے لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کمپنیاں 16 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ صارفین کو منتقل کردیں گی جنہیں ایک ڈالر پر 20 روپے سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، اس کے نتیجے میں ڈالر کا شرح تبادلہ ایکسچینج ریٹ 200 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت کے خلاف سازش لگتی ہے، ایکسچینج ریٹ پر بہت دباؤ ہے اور روپے کی قدر کم ہونے پر حکومت کو پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈالر 200 تک پہنچتا ہے تو ایکسچینج کمپنیوں کے قانونی کاروبار کی جگہ بلیک مارکیٹ لے گی۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ، جو کہ خود بھی ایک ایکسچینج کمپنی چلاتے ہیںکا کہنا تھا کہ گرے مارکیٹ ہمارے کاروبار کے بڑے حصے کو کھا چکی ہے کیونکہ یہ زیادہ قیمت دیتی ہے،

ڈالر اسمگلر، حوالہ کرنے والوں اور افغانستان کے لوگوں کو زیادہ قمیت پر فروخت کیا جارہا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایک اے کیٹیگری کی ایکسچینج کمپنی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایف بی آر کی جانب سے موصول نوٹس شیئر کیا جس میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے سے زیادہ کی رقم طلب کی گئی ہے۔

ایکسچینج کمپنی نے کہا کہ وہ یہ بوجھ کرنسی مارکیٹ کو منتقل کردے گی اور ڈالر کی قیمت ا?سمان سے باتیں کرتی نظر آئے گی، گزشتہ روز ڈالر 178روپے 30 پیسے پر بند ہوا تھا۔ملک بوستان نے کہا اس وقت ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے باہر ہے جبکہ مارکیٹ پہلے ہی غیر مستحکم اور حکومت دباؤ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چیئرمین ایف بی آر سے ہونے والی ملاقات

میں انہیں 16 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے نتائج کے بارے میں بتایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر نے ایکسچینج کمپنیوں کو یقین دلایا تھا کہ نوٹس واپس لے لیے جائیں گے اور کمپنیوں کو ٹیکس افسران کی جانب سے کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ حالیہ دنوں میں ایکسچینج کمپنیوں نے اپنی فروخت سے متعلق کئی پابندیوں کا سامنا کیا ہے ان کا کاروبار مکمل طور پر دستاویزی شکل میں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…