ن لیگ کی ریلی میں لیگی کارکن گدھے لے آئے جن پر وفاقی وزراء کے نام لکھے ہوئے تھے

  منگل‬‮ 18 جنوری‬‮ 2022  |  18:59

لاہور(این این آئی، مانیٹرنگ)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف کی قیادت میں لیگی ریلی میں کارکن اور رہنما گدھے لے آئے جن پر وفاقی وزراء کے نام لکھے ہوئے تھے اور وزیراعظم کو پھانسی دینے کے مطالبات بھی درج تھے۔ اس طرح اس پاکستان مسلم لیگ ن کی مہنگائی ریلی

میں گدھوں نے بھی شرکت کی جن پر مختلف وزراء کے نام درج تھے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے موجودہ حکومت کے تسلسل کیلئے عبوری سیٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری سیٹ اپ کے گیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی کسی عبوری سیٹ اپ کے گیم کا حصہ نہیں بنیں گے جو ٹرم پوری کرنے کے لیے ہو۔جاوید لطیف نے کہا کہ (ن) لیگ انتخابات کے لئے بننے والے عبوری سیٹ اپ کو سپورٹ کرے گی مگر حتمی فیصلہ نوازشریف کا ہی ہوگا۔ کسی ایسے عبوری سیٹ آپ کا حصہ نہیں بنیں گے جو ٹرم پوری کرنے کے لیے ہو۔ہم تو صرف وہ نگران حکومت چاہتے ہیں جو الیکشن کروائے، اگر ہم بھی ایسی گیم کا حصہ بن گئے تو لوگ ہمیں برا کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی رہنما کو اپناموقف پیش کرنے کاحق ہے،سر سے ہاتھ ہٹنا چاہیے، سب سامنے آجائے گا۔دوسری جانب ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جاوید لطیف نے وزیراعظم عمران خان کی پھانسی کا مطالبہ کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم مطالبہ کرتی ہے کہ محسن پاکستان کی سزائیں ختم کی جائیں اور پاکستان کے قومی مجرم عمران خان کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎