جڑانوالہ کا موچی 5 کتابوں کا مصنف کئی ایوارڈز حاصل کرچکا

  جمعہ‬‮ 14 جنوری‬‮ 2022  |  13:04

مکوآنہ (این این آئی )جڑانوالہ کے نواحی قصبے روڈالا کے مین بازار میں سڑک کنارے بیٹھا منور شکیل پچھلی 3 دہائیوں سے دیہاتیوں کے پھٹے پرانے جوتے مرمت کرنے میں مصروف ہے۔ حالیہ برسوں میں منور کی عارضی دکان پر جوتے مرمت کروانے والے گاہکوں سے زیادہ ان کی تلخ اور شیریں حقیقتوں پر مبنی شاعری سننے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔ منور پنجابی شاعری کی 5 کتابوں کے مصنف ہیں۔ 1969ء میں پیدا ہونےوالے منور شکیل نے 13 سال کی کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا اور ان کی پہلی کتاب ’’سوچ سمندر‘‘ 2004ء میں منظرعام پر


آئی۔ منور کی دوسری کتاب ’’پردیس دی سنگت‘‘ 2005ئ، تیسری کتاب ’’صدیاں دے بھیت‘‘ 2009ئ، چوتھی کتاب ’’جھورا دھپ گواچی دا‘‘ 2011ء اور پانچویں ’’اکھاں مٹی ہوگئیاں‘‘ 2013ء میں شائع ہوئی۔ ان کی تمام کتابیں ایوارڈ یافتہ ہیں۔ وہ آشنائے ساندل بار، پاکستان رائٹرز گلڈ اور پنجابی سیوک جیسی ادبی تنظیموں سے اب تک کئی ایوارڈ اپنے نام کرچکے ہیں۔


زیرو پوائنٹ

موچی شاعر

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎