جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی تھی؟شہبازشریف کا مری اور گلیات میںرش میں پھنسی گاڑیوں میں اموات پر رنج وغم اور افسوس کااظہار، حکومت کو کھری کھری سنا دیں

datetime 8  جنوری‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مری اور گلیات میںرش میں پھنسی گاڑیوں میں اموات پر رنج وغم اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس حکومت کی انتظامی صلاحیت کا عالم ہے کہ مری اور گلیات میں ٹریفک انتظامات کرنے کے قابل بھی نہیں ۔ اپنے بیان میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ

مری اورگلیات میں ٹریفک رش میں پھنسی گاڑیوں میں شہریوں کی اموات انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا دردناک واقعہ ہے ،یہ اس حکومت کی انتظامی صلاحیت کا عالم ہے کہ مری اور گلیات میں ٹریفک انتظامات کرنے کے قابل بھی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب حکومت کو پتہ تھا کہ شہری اس قیامت خیز سردی میں پھنسے ہوئے ہیں تو انہیں بچانے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوشش کیوں نہ ہوئی؟،اگر حکومت ایک ہزار گاڑیوں کے انتظام کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی تو پھر اسے اقتدار میں رہنے کا کیا اور کیوں حق ہے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ اگر سیاح اتنی بڑی تعداد میں جا رہے تھے تو حکومت کو کیوں پتہ نہ چلا؟ انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی تھی؟ پیشگی انتظامات کیوں نہ کئے گئے؟،جو حکومت رش میں پھنسے اپنے شہریوں کو نہیں بچاسکتی وہ مہنگائی کی دلدل سے عوام کو کیسے نکال سکتی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت ایک ہزار گاڑیوں کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، وہ ملک کے بڑے اور سنگین مسائل سے کیونکر نمٹ سکتی ہے؟۔ انہوںنے کہاکہ عمران نیازی میں تو اخلاقی جرات نہیں، کم ازکم اس سنگین مجرمانہ غفلت کے ذمہ داروزیراور ماتحتوں کو ہی برخاست کیاجائے ،اس خون ناحق پر کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرایا جائے، عوام کے خون پر حکومتی مجرمانہ خاموشی بدترازگناہ کے مترادف ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ وفات نہیں شہریوں کے قتل عمد کے مترادف ہے،

سیاحت میں اضافے کاحکومتی پراپگنڈہ سفاکی اور سنگ دلی کی انتہاء ہے،مغرب کی مثالیں دینے والوں نے تو مشرقی روایات کی بھی لاج نہیں رکھی ،متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتاہوں، ان کے غم میں شریک ہیں ،اللہ تعالی مرحومین کو جواررحمت میں جگہ اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ آمین۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…