اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ وقت صرف میٹرو ٹرین اور صحت کارڈ کے بارے میں ہی نہیں اور بھی بہت کچھ بتائیگا، ایشن ٹائیگر کی اصطلاح ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی، معاشی استحکام اور خود کفالت کے لیے استعمال کی جاتی ہے،ریاست مدینہ کے جذباتی نعرے سے اسکا موازنہ ناقابل فہم اور قطعی طور پر غیر منطقی ہے،
اس طرح کے سستے سیاسی نعروں کا مقصد عوام کے ذہن کو الجھانا ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگی سینیٹر نے کہا کہ ساڑھے تین سال پرانے نعروں کو رد کرنے اور نئے نعرے لگانے میں صرف ہو گئے، لگتا ہے نیا سال بھی اسی طرح کے کھوکھلے نعروں کی نذر ہو جائیگا اور غربت کی لکیر سے نیچے لڑھک جانے والوں کی تعداد چالیس فیصد سے بڑھ کر پچاس فیصد ہو جائے گی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ میٹرو ٹرین اور صحت کارڈ کے بارے میں عوامی فیصلے کا انتظار اچھی بات ہے لیکِن حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خیبرپختونخواہ کے عوام کا فیصلہ کیا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت یہ بھی فیصلہ کریگا کہ ساری حکومتی اور ریاستی توانائیاں نواز شریف پر جھوٹے مقدمات بنانے، جیل میں ڈالنے اور سیاست سے بیدخل کر دینے پر صرف کر دینا درست تھا یا تھوڑی سی حکومتی کوشش غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کے مسائل پر بھی دینی چاہیے تھی۔ وقت تو پہلے ہی بتا چکا ہے کہ ۸۱۰۲ کا پاکستان آج کے پاکستان سے کئی گنا بہتر تھا جب مہنگائی کی شرح تین فیصد تھی، روپیہ مستحکم تھا معیشت 5.6 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی اور پاکستان دنیا میں باعزت مقام رکھتا تھا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ تبدیلی نعروں سے نہیں آتی اور نہ انقلاب تقریروں سے آیا کرتے ہیں۔



















































