جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

کورونا کی قسم اومیکرون کے ویکسینز کے خلاف مزاحمت کے مزید شواہد دریافت

datetime 27  دسمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی) کورونا کی نئی قسم اومیکرون سابقہ بیماری اور ویکسینیشن سے پیدا ہونے والے مدافعتی تحفظ پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیکرون قسم کی ایک خاص بات اس کے اسپائیک پروٹین میں متعدد تبدیلیاں آنا ہے جو موجودہ ویکسینز اور علاج کی

افادیت کے لیے خطرہ ہے۔اس تحقیق میں اومیکرون قسم کے خلاف ویکسینیشن سے وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی جانچ پڑتال لیبارٹری ٹیسٹوں میں کی گئی۔اس مقصد کے لیے اینٹی باڈیز کو زندہ وائرسز کے مقابلے پر لایا گیا۔موڈرنا، فائزر، ایسٹرا زینیکا اور جانسن اینڈ جانسن ویکسینز سے بننے والی اینٹی باڈیز کو ویکسینیشن کرانے والے افراد سے حاصل کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاروں ویکسینز کی اینٹی باڈیز کی افادیت سابقہ اقسام کے مقابلے میں اومیکرون قسم کے خلاف نمایاں حد تک کم ہوئی۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جن افراد کو فائزر یا موڈرنا ویکسینز کی اضافہ خوراک دی گئی، انہیں اومیکرون سے زیادہ بہتر تحفظ ملا، حالانکہ اینٹی باڈیز کی سرگرمیاں اس صورت میں بھی کم دریافت ہوئیں۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماض میں کووڈ کا سامنا کرنے والے مریض اور ویکسینیشن مکمل کرانے والے افراد میں اومیکرون قسم سے بیمار ہونے کا خطرہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ تیسری خوراک سے بھی اومیکرون سے مناسب تحفظ نہیں ملتا، مگر یقینا ہم بوسٹر ڈوز کے استعمال کا مشورہ دیں گے کیونکہ اس سے کسی حد تک مدافعت ضرور پیدا ہوجائے گی۔اس تحقیق کے نتائج دیگر تحقیقی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں جن کے مطابق ویکسین کی 2 خوراکوں کی اومیکرون سے تحفظ کی شرح میں نمایاں حد تک کمی آتی ہے۔اس نئی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت کووڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے مختلف طریقہ کار بھی اومیکرون کے خلاف کم موثر ہیں۔تحقیق میں اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں 4 نئی میوٹیشنز کو بھی شناخت کیا گیا جو وائرس کو اینٹی باڈیز پر حملہ آور ہونے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔محققین کے مطابق یہ تفصیلات اس نئی قسم سے مقابلے کے لیے نئی حکمت عملی کو ڈیزائن کرنے میں مدد فراہم کرسکے گی۔انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کو ممکنہ طور پر نئی ویکسینز اور علاج کو تیار کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وائرس کے ارتقا سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اب دور دراز کا خیال نہیں کہ کورونا وائرس محض چند میوٹیشنز کے بعد موجودہ ویکسینز کی اینٹی باڈیز کے خلاف مکمل مزاحمت کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…