ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاک فوج کاافسر بچپن کے دوست کے حسد کا شکار ہوگیا ،دوست نے قتل کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)17 اکتوبر کو قتل ہونے والے پاک فوج کے افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ عثمان لیاقت کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو اس کے بچپن کے دوست نے حسد کی بنا پر قتل کیا ہے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ عثمان لیاقت 9 اکتوبر کو پاکستان ملٹری اکیڈمی سے 144 لانگ کورس ختم ہونے پر پاس آئوٹ ہوئے اور یونٹ جوائن کرنے سے قبل گھر

چھٹی پر آئے جبکہ 17 اکتوبر کو ان کے بچپن کے دوست محمد تصور نے انہیں سر پر گولی مار کر قتل کر دیا۔عثمان کے والد رانا لیاقت کا کہنا تھا کہ 24 اکتوبر کو پولیس اور آرمی کی کوششوں سے ان کے بیٹے عثمان کی نعش تھل نہر سے برآمد ہوئی۔ عثمان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ تصور نے حسد میں آ کر عثمان کا قتل کیا جبکہ ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ 17 اکتوبر کو پولیس تحصیل کلورکوٹ میں ایف آئی آر درج کروائی گئی جس میں بتایا گیا کہ اتوار کو سیکنڈ لیفٹیننٹ عثمان گھر سے حجام کے پاس جانے کے لیے نکلے لیکن واپس نہیں آئے۔پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں عثمان کو گھر سے نکلنے کے بعد اپنے دوست تصور سے ملتے اور اسی کے ساتھ بائیک پر جاتے دیکھا گیا ہے۔ پولیس نے تصور کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی جس کے دوران ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ

عثمان تصور کی موٹر سائیکل چلا رہے تھے جب پیچھے بیٹھے تصور نے ان کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی، بعد ازاں ملزم نے نعش تھل نہر میں پھینک دی۔مقتول کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں عثمان کے والد نے موقف اختیار کیا ہے کہ تصور نے حسد کی وجہ سے قتل کیا کیونکہ عثمان فوج میں افسر بن گئے تھے۔عثمان نے 19 اکتوبر کو اپنا یونٹ 48 سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹیشن بٹالین جوائن کرنا تھی، عثمان نے جناح کالج کلورکوٹ سے ایف ایس سی کرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کا امتحان پاس کیا تھا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…