جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان نے افغان طالبان کی پہچان کا روڈ میپ دیدیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک (آن لائن ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی برادری ایک روڈ میپ تیار کرے جو افغان طالبان کی سفارتی پہچان کا باعث بنے اور اس میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مراعات ہوں اور پھر آمنے سامنے بیٹھ کر گروپ کے رہنماؤں سے بات کریں، پاکستان ایک پرامن، مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر امریکی خبررساں ادارے انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوس میں اقتدار سنبھالنے والی نئی حکومت سے نمٹنے کے لیے ان چیزوں پر انحصار کر رہا ہے کہ حقیقت پسند بنیں، صبر کا مظاہرہ کریں، مشغولیت اپنائیں اور سب سے بڑھ کر آئی سولیٹ نہ ہوں، وزیر خارجہ نے بتایا کہ ‘اگر وہ ان توقعات پر پورا اترتے ہیں تو وہ اپنے لیے آسانی پیدا کریں گے، انہیں تسلیم کیا جائے گا جو کہ پہچان کے لیے ضروری ہے، اس ہی دوران بین الاقوامی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ متبادل کیا ہے؟ اختیارات کیا ہیں؟ یہ حقیقت ہے اور کیا وہ اس حقیقت سے منہ موڑ سکتے ہیں؟’انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جس میں دہشت گرد عناصر کے قدم جمانے کی گنجائش نہ ہو اور طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین دوبارہ کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تاہم ہم کہہ رہے ہیں اپنے نقطہ نظر زیادہ حقیقت پسندانہ بنائیں، ان کے ساتھ مشغول ہونے کا ایک جدید طریقہ آزمائیں، جس طرح سے ان کے ساتھ نمٹا گیا تھا وہ اب کام نہیں کر رہا ہے’۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان قیادت سے توقعات میں ایک جامع حکومت اور انسانی حقوق کی یقین دہانی شامل ہو سکتی ہے، خاص طور پر خواتین اور

لڑکیوں کے لیے۔انہوں نے کہا کہ بدلے میں افغان حکومت کو کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد اب بحالی میں مدد کے لیے ترقی، معاشی اور تعمیر نو کی امداد حاصل کر کے حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے امریکا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر ممالک پر زور دیا جنہوں نے افغان حکومت کے فنڈز کو منجمد کر دیا ہے کہ فوری طور پر رقم جاری کی جائے تاکہ اسے ‘افغانستان میں معاملات عمومی طور پر چل سکیں’۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مواصلاتی چینلز کھولنے میں ‘تعمیری، مثبت’ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ یہ بھی امن اور استحکام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…