پی آئی اے طیارہ ادویات لے کر کابل پہنچ گیا

  پیر‬‮ 30 اگست‬‮ 2021  |  23:03

اسلام آباد (این این آئی)اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کی درخواست پر پی آئی اے کا خصوصی طیارہ مزار شریف پہنچ گیا ، پی آئی اے کے افغانستان میں جاری انسانی ہمدردی مشن پر طیارہ ضروری ادویات کی ترسیل کے لئے پہنچا، خوراک و ادویات پی آئی اے کے خصوصی بوئنگ 777 نے دبئی سے مزار شریف پہنچائیں،کارگو طیارہ کا مقصد افغانستان میں ادویات کی قلت کے سدباب کیلئےاقوام متحدہ کی ہر ممکن حد تک معاونت کرنا ہے، ادویات کی کمی کے باعث افغان لوگ مشکلات کا شکار تھے ،افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد کابل کے


علاوہ یہ پہلی بین القوامی کمرشل پرواز تھی،مزار شریف میں پرواز کی لوڈنگ اور زمینی انتظامات کیلئے پی آئی اے کی آپریشنز ٹیم جہاز کے ساتھ روانہ ہوئی،ٹیم نے سی ای او پی آئی اے کے معاون خاص ائیروائس مارشل عامر حیات کی سربراہی میں سفر کیا اور زمین پر متعلقہ انتظامات سنبھالے، پی ائی اے کی پرواز کے اجازت نامے و دیگر معاملات کیلئے سیکٹری خارجہ سہیل محمود کی ذاتی کاوشیں شامل تھیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی اس آپریشن میں اہم کردار ادا کیا،سی ای او پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک کی جانب سے کامیاب مشن مکمل کرنے پر ٹیم کو شاباش دی گئی،سی ای او پی آئی اے کی جانب سے سیکٹری و وزیر خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا،پی ائی اے کی پرواز، پاکستان کی طرف سے جاری انسانی ہمدردی و اقوام عالم کی معاونت کے سلسلے کی ایک کڑی،پاکستان افغانستان کا امن، صحت و سلامتی میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے،مشکل حالات میں ملک کی خدمت، ملکی مفادات اور انسانی ہمدردی میں حصہ لینا ہمیشہ سے پی آئی اے کی روایت رہی ہے۔ سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے آئندہ بھی بوقت ضرورت ہراول دستے کا کام کرے گی،افغانستان ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے، وہاں کے لوگوں کی معاونت پی آئی اے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎