بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

5 ارب روپے کی ٹیکس چوری ، ایف بی آر کا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو نام بتانے سے انکار

datetime 12  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 6 ارب روپے ٹیکس چوری کا ایک اور کیس نیب کو بھیج دیا۔ جمعرات کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں چاہت فوڈ انڈسٹری کے نام پر مینوفیکچرر کے طور پر اشیاء کی درآمد کا انکشاف،کھانے پینے کی اشیاء کا خام مال درآمد کرکے ٹیکس استثنیٰ لیا گیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ مالک کا نام رانا عارف ہے،

5 ارب کی ٹیکس چوری شامل ہے، پی اے سی ارکان نے کیس نیب کو بھیجنے کی سفارش کر دی۔چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس چوری میں ملوث شخص کا نام بتانے سے گریز کیا۔ حکام ایف بی آر نے کہاکہ قانون کے تحت ٹیکس دہندہ کا نام ظاہر نہیں کر سکتے۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ آپ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ٹیکس معلومات کس قانون کے تحت ظاہر کیں۔ اجلاس کے دور ان بتایاگیاکہ پی اے سی کی ہدایت پر آڈیٹر نے فیکٹری کے مقام پر چھاپہ مارا تاہم وہاں پر فیکٹری کے بجائے کولڈ اسٹوریج تھا۔بتایاگیاکہ فیصل ٹاؤن میں کمپنی کے دفاتر پر چھاپے سے پتہ چلا وہاں کرائے دار مقیم ہیں۔ نور عالم خان نے کہاکہ چیئرمین ایف بی آر پی اے سی کو ہر چیز کا جواب دینے کے پابند ہیں، ایک گھنٹے سے ٹیکس نادہندہ کا نام پوچھ رہا ہوں لیکن نہیں بتایا گیا، آپ پی اے سی کی اتھارٹی پر سوال نہیں اٹھا سکتے، یہ زیادتی ہے۔ چیئر مین ایف بی آر نے کہاکہ ہم براہ راست ٹیکس دہندہ سے رابطہ نہیں کر سکتے، 30 دن کا وقت دیں۔ پی اے سی نے کیس نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا،پی اے سی نے ایف بی آر سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی بعد ازاں پی اے سی نے 6 ارب روپے ٹیکس چوری کا ایک اور کیس نیب کو بھیج دیا۔ پی اے سی نے کہاکہ ملتان میں ٹیکس ریفنڈ اسکینڈل میں ٹیکس چوری کی گئی۔ مشاہد حسین سید نے کہاکہ ایف بی آر کی موجودگی میں ہر کیس نیب کو نہ بھجوایا جائے، کیا سرکاری محکمے ایف بی آر پر ہمیں اعتماد نہیں، ایف بی آر کے مطابق یہ کیس بھی ہائی کورٹ میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…