بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

جو انڈیا میں ہوا وہ تباہی دنیا نے دیکھی ،لاک ڈائو ن ، لاک ڈائون ، لاک ڈائون ،زراداری صاحب آپ کیا چاہتے ہیں،اسد عمرکا سوال

datetime 31  جولائی  2021 |

اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈائون، لاک ڈائون، لاک ڈائون، بلاول زرداری صاحب آپ چاہتے کیا ہیں؟ لاک ڈائون نے بھارت میں کروڑوں لوگوں کو غربت کی دلدل میں دھکیل دیا اور بھارت کی معیشت 7 فیصد سکڑ گئی۔اپنے ٹویٹ میں بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل میں اسد عمر نے کہا کہ

بلاول آپ کہتے ہیں کہ اگر کراچی میں کورونا وائرس پھیلا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، لاک ڈائون، لاک ڈائون، لاک ڈائون، بلاول زرداری صاحب آپ چاہتے کیا ہیں؟۔اسد عمر نے کہا کہ اس وقت کورونا سے بھارت میں ہونے والی اموات پاکستان سے تین گنا زیادہ ہیں، بھارت میں کروڑوں لوگوں کو غربت میں دھکیل دیا گیا جو آج تک غربت سے نکالے نہیں جاسکے، بھارت کی معیشت 7 فیصد سکڑ گئی، بھارتی معیشت کے لیے یہ آزادی کے بعد سے بدترین سال تھا۔اسد عمر نے کہا کہ یہ واضح طور پر ایک ایسا موضوع ہے جسے آپ اچھی طرح نہیں سمجھتے، برائے مہر بانی کورونا ریسپانس کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے، زندگی اور معاش دونوں کی حفاظت کے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن پر مبنی حکمت عملی نے بہترین نتائج پیدا کیے۔انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ این سی او سی کے اجلاس میں سندھ حکومت ان تمام معاملات پر مزید تفصیل کے ساتھ مشاورت کرے گی، اور مشاورت سے ایک ایسی حکمت عملی وضع ہو گی جس میں ریاست کے سب ستون مل کر سندھ کے عوام کی صحت اور روزگار دونوں کا دفاع کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں جو فیصلے گزشتہ روز کیے گئے، خاص طور پر صنعت اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے بارے میں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، ہم نے کل بھی اور آج بھی اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کیا تھا جس کی بنیاد پر جزوی تبدیلی کی گئی

جو کہ خوش آئند ہے لیکن ابھی بھی مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے این سی او سی کی ٹیم صوبوں کے ساتھ مل کر تفصیلی حکمت عملی بناتی ہے، اس قومی ہم آہنگی سے مرتب حکمت عملی نے اللہ کے فضل سے کورونا کی تین لہر کو شکست دی، اگر ہر صوبہ اپنی مرضی کے فیصلے کرتا اور

صرف اپنے وسائل پر انحصار کرتا تو کبھی بھی یہ کامیابی نہ حاصل ہوتی۔اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان کی کورونا کی حکمت عملی جس سے عوام کی صحت اور روزگار دونوں کا دفاع کیا گیا اسے دنیا میں پذیرائی حاصل ہوئی، زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد فیصلے کیے گئے، یہ تمام فیصلے ایسے پلیٹ فارم سے لیے گئے جہاں تمام وفاقی سول، ملٹری ادارے اور صوبے موجود ہوتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…