بلوچستان کی خضدار جیل میں ایک بیرک کے سامنے سے جج کا گزر ہوا اور پھر پانچ منٹ میں سلاخوں کے پیچھے قیدشخص کی زندگی بدل گئی، بلوچستان میں پانچ سو پیکٹ چرس برآمدگی کے جرم میں قید 55 سالہ شخص کے پاس خود انصاف چل کر آیا

  جمعہ‬‮ 30 جولائی‬‮ 2021  |  10:50

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )بلوچستان کے علاقے خضدار کے مرکزی جیل کا ایک قیدی اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہا تھا اور اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انصاف خود ان کے پاس چل کر آئے گا اور صرف پانچ منٹ میں اس کی بریت بھی ہو جائے گی۔بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اس قیدی کی سزا معمولی نہیں تھی بلکہ انھیں ایک سیشن کورٹ سے عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔قسمت ان پر اس طرح مہربان ہوئیکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے جب خضدار


جیل کا معائنہ کیا تو وہاں اس شخص نے انھیں اپنی دردناک کہانی سنائی۔اس 55 سالہ شخص کا تعلق کراچی سے تھا جس کی کہانی نامزد چیف جسٹس نے فقط ایک دلچسپ واقعے کے طور پر نہیں سنی بلکہ اس کے ذریعے انصاف کے نظام میں نقائص کی نشاندہی اور اصلاح بھی ممکن ہوئی۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی راتیں خوشگوار ہوتی ہیں۔ایسی ہی ایک رات 19 جولائی کی تھی جب نئے چیف جسٹس نے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں موجود وکلا کو یہ کہانی سنائی۔یہ عشائیہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سبزہ زار پر چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کے سپریم کورٹ کا جج بننے اور جسٹس نعیم اختر افغان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے نامزدگی کی خوشی میں دیا گیا تھا۔نامزد چیف جسٹس نے کسی خشک موضوع پر بات کرنے کی بجائے اس 55 سالہ شخص کی درد سے بھری کہانی کا انتخاب کیا۔آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرے گا کہ اتنی لمبی تمہید کے بعد بھی اس شخص نام کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے۔نام کے بجائے نامزد چیف جسٹس کے نزدیک اس شخص کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اور پھر ناکردہ جرم میں عمر قید کی سزا کا تذکرہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کے باعث نہ جسٹس نعیم اختر افغان نے ان کا نام لیا اور نہ ہی ان کے وکیل کا نام بتایا۔اس قیدی کا نام اوردیگر تفصیلات معلوم کرنے کا ایک ذریعہ خضدار جیل کا ریکارڈ تھا۔ اس مقصد کے لیے جب جیل کے سپرانٹینڈنٹ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ پرانا واقعہ ہے اس لیے اب اس کا ریکارڈ ملنا ممکن نہیں۔اگرچہ نامزد چیف جسٹس نے قیدی کا نام اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے کچھ نہیں بتایا لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ان کی تمام تفصیلات ایک، ایک کر کے بتائیں۔وکلا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب وہ خضدار جیل کا معائنہ کرنے گئے تو دورے کے اختتام پر جب وہ باہر نکلنے کے لیے مین گیٹ پر پہنچے تو آخری بیرک کی جالیوں کے پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی۔وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے جب دیکھا تو ایک شخص کہہ رہا تھا کہ کیا آپ میری بات سنیں گے۔ میں نے کہا کہ ضرور کیونکہ میں تو آپ لوگوں کو سننے کے لیے آیا ہوں۔‘جب چیف جسٹس ان کے قریب گئے تو اس شخص نے رونا شروع کر دیا۔’میں نے ان کا حلیہ دیکھا اور رونا دیکھا۔ میں نے ان کو دلاسہ دیا اور کہا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں حالانکہ ان کو روتے دیکھ کر میری اپنی حالت بھی غیر ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔‘قیدی نے انھیں بتایا کہ اس کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کا ہسٹری ٹکٹ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ انھیں عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔چیف جسٹس کہتے ہیں کہ ’میں حیران ہوا کہ وضع اور قطع سے وہ مجرم لگتا نہیں تو پھر ان کو سزا کیسے ہوئی۔’جیل کے عملے نے میرے استفسار پر بتایا کہ اس قیدی کو منشیات کے مقدمے میں عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے قیدی کو کہا کہ اگر آپ منشیات کا کاروبار کریں گے تو پھر سزا تو ہو گی لیکن اس شخص کے رونے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔‘نامزد چیف جسٹس نے بتایا کہ اس قیدی کی بھتیجی کی شادی کوئٹہ میں ہوئی تھی لیکن یہ شادی صرف ایک سال چل سکی۔ ’ایک سال بعد لڑکی کی طلاق ہوئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ طلاق کے بعد لڑکی واپس کراچی چلی گئی تاہم سسرال کی جانب سے جہیز میں لڑکی کے شوہر کو جو سامان دیا گیا تھا اس کی واپسی کے لیے کوئٹہ کی فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔جب فیملی کورٹ سے لڑکی کے حق میں فیصلہ آیا تو جو سامان واپس کیے جانے تھے ناظر نے اس کی فہرست تیار کی اور سامان لڑکی کے حوالے کرنے کا بندوبست کر دیا۔نامزد چیف جسٹس کے مطابق قیدی نے بتایا کہ جہیز کے سامان کو منتقل کرنے کے لیے وہ کوئٹہ کے ٹرک اڈا گئے جہاں ایک ٹرک والے سے کرایہ طے ہوا۔ٹرک والے سے یہ طے پایا کہ وہ اگلی صبح آئے گا اور سامان لے کر کراچی کے لیے روانہ ہوں گے۔ جب اگلی صبح ٹرک آیا تو اس میں سامان رکھ دیا گیا۔قیدی سامان رکھنے کے بعدڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا اور وہ کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔ جب وہ کراچی کے قریب اوتھل پہنچے تو چیک پوسٹ پر گاڑی کو روک دیا گیا۔پھر وہ ہوا جو قیدی کے خواب و خیال میں نہیں تھا۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ 'قیدی نے بتایا کہ ایک اہلکار آیا اور یہ پوچھا کہ یہ سامان کس کا ہے تو میں نے کہا کہ میرا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ہماری اطلاع یہ ہے کہ اس ٹرک میں منشیات ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں اس میں کوئی ایس چیز نہیں بلکہ بچی کے جہیز کاسامان ہے۔ پلنگ ،دیگر فرنیچراور بستر وغیرہ۔‘قیدی نے بتایا کہ ’انھوں نے تلاشی کے لیے آنے والے اہلکاروں کو رسید دکھائی، ناظر کی رپورٹ دکھائی، اجرا کا حکم دکھایا لیکن انھوں نے مجھے اور ڈرائیور کو نیچے اتار دیا۔’جب سامان اتارنے کے بعد ٹرک کے پچھلے فرش کو اکھیڑا گیا تو وہاں خفیہ خانوں میں منشیات تھی اور اس میں پانچ سو پیکٹ چرس چھپائی گئی تھی۔‘چیف جسٹس نے کہا کہ چرس کی برآمدگی کرنے والے اہلکاروں نے دونوں کو گرفتار کر لیا۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ اگلی کہانی اس سے بھی زیادہ عجیب تھی کیونکہ تفتیشی افسر نے دونوں افراد کا چالان کیا اور سیشن جج نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے قیدی کو کہا کہ پھر آپ نے اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہو گا اس لیے آپ کو سزا ہوئی۔’قیدی نے بتایا کہ انھوں نے دفاع میں تمام دستیاب دستاویزات اور دیگر ثبوت پیش کیے لیکن جج صاحب نے سزا سنا دی۔‘جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ ہائیکورٹ میں ان کی اپیل کی اگلی سماعت کب ہے تو معلوم ہوا کہ گذشتہ تین سال سے ہائیکورٹ میں ان کی اپیل کی کوئی سماعت نہیں ہوئی۔وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات ذہن میں رکھنا چائیے کہمیں نظام میں بہتری کی بات کررہا ہوں۔‘جسٹس نعیم اختر افغان نے بتایا کہ خضدار سے واپسی پر وہ اپنے چیف جسٹس کے پاس گئے اور انھیں اس شخص کی کہانی بتائی اور ان سے درخواست کی کہ اس کیس کو میں خود سنوں گا۔چیف جسٹس نے میری ستائش کی اور کہا کہ یہی تو کرنے کی بات ہے آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔انھوں نے کہا کہ وہ اس وکیل کا نام نہیں لیں گے تاہم اگروہ اس پنڈال میں بیٹھے ہیں تو ان کو یاد آ جائے گا۔رات کو میں نے قیدی پر مقدمے کی فائل پڑھی تو اس کے ہر صفحے پر اس کی بے گناہی کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔انھوں نے کہا کہ 'میں حیران ہوا کہ ثبوت نہ ہونے کی باوجود میرے ساتھی جج صاحب نے ان کو سزا کیسے دی۔نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیل لگنے کے بعد اس کی سماعت کیوں نہیں ہوئی، انھوں نے نے مقدمے کے آرڈر شیٹس دیکھے۔’آرڈر شیٹس پر قیدی کے وکیل کی بار بارغیر حاضری پائی گئی۔ مجھےاس پر بھی بہت زیادہ تکلیف ہوئی کہ وکیل نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا۔‘جج کے استفسار پر قیدی کے وکیل نے کیا کہا؟نامزد چیف جسٹس نے بتایا کہ اگلے دن جب سماعت کے لیے قیدی کی اپیل کی باری آئی تو نوٹس ہونے کے باوجود وکیل پھر نہیں آیا۔انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے سٹاف کو کہا کہ وکیل کو فون کریں اور انھیں بلا لیں خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں۔’وکیل ساڑھے بارہ بجے میرے سامنے پیش ہوا۔ میں نے وکیل سے پوچھا کہ آپ کا کیس ہے، کیوں ظلم کر رہے ہو، کیس کیوں نہیں چلا رہے۔‘نامزد چیف جسٹس نے بتایا کہ وکیل کا جواب یہ تھا ’یہ ظالم میری فیس نہیں دیتا۔جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ انھوں نے قیدی کے وکیل کو کہا کہ آپ کو ایک اور موقع دیتا ہوں۔جسٹس نعیم اختر افغان نے بتایا کہ انھوں نے قیدی کے وکیل کو کیس کی فائل پڑھنے کی مہلت دی مگر اگلے دن جب وکیل آیا ’تو انھوں نے فائل نہیں پڑھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس قیدی سے منشیات کی برآمدگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا جس پر میں نے ان کو پانچ منٹ میں بری کر دیا۔‘نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ ایک کہانی ہے جس میں بہت سارے سوال ہیں اور بہت سارے کردار ہیں۔ کس نے کہاں ٹھیک ہونا ہے، میری کیا ذمہ داری ہے اور آپ کی کیا ذمہ داری ہے۔‘انھوں نے کہا کہ میں تو قسم کھا رہا ہوں کہ میں اپنی ذمہ داری پوری کروں گا چاہے مجھے اس کے لیے کتنے کڑوے گھونٹ کیوں نہ پینے پڑیں۔‘


زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎