جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ترکی کے صدر طیب اردوان کا طالبان سے افغانستان میں قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ

datetime 20  جولائی  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انقرہ(این این آئی)ترکی کے صدر طیب اردوان نے طالبان سے افغانستان میں قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کا رویہ ایسا نہیں جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے ہونا چاہئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ طالبان کو افغانستان میں اپنے بھائیوں کی سرزمین سے قبضہ ختم کرکے دنیا کو دکھانا چاہئے کہ امن عمل خیر اسلوبی کے ساتھ جاری ہے جس میں طالبان کا کردار مثبت ہے۔

ترک صدر نے افغانستان میں جاری جھڑپوں سے متعلق کہا کہ طالبان کا رویہ ایسا نہیں جیسا کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔صدر طیب اردوان نے یہ بیان طالبان کے اس انتباہ کے بعد جاری کیا ہے جس میں طالبان نے کابل ہوائی اڈے کی حفاظت کے لیے ترکی فوج کے افغانستان میں قیام پر خبردار کیا تھا۔قبل ازیں جب ترک صدر سے طالبان وارننگ سے متعلق پوچھا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے اپنی دھمکی میں کہیں بھی ترک فوجی کا لفظ استعمال نہیں کیا یعنی یہ دھمکی ترک فوجیوں کے لیے نہیں ہے۔طالبان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی غیرملکی فوج کو کسی بھی بہانے افغان سرزمین میں رکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انخلا کی ڈیڈ لائن کے بعد ایک بھی غیرملکی فوجی کی موجودگی کو قبضہ تصور کیا جائے گا۔افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کے دوران ہی طالبان نے پاکستان، چین، ایران، تاجکستان اور ترکمانستان سے متصل افغان سرحدوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ صدر طیب اردوان نے طالبان سے افغانستان میں قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کا رویہ ایسا نہیں جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے ہونا چاہئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ طالبان کو افغانستان میں اپنے بھائیوں کی سرزمین سے قبضہ ختم کرکے دنیا کو دکھانا چاہئے کہ امن عمل خیر اسلوبی کے ساتھ جاری ہے جس میں طالبان کا کردار مثبت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…