پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سوئٹزرلینڈ کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش کا اظہار

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) سوئٹزرلینڈ کے سفیر بینیڈکٹ ڈی سرجات نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری ماحول بہترین ہے، سوئٹزرلینڈ کی یہاں کام کرنے والی کمپنیاں بہت خوش اور سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہشمند ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے بھی

اس موقع پر خطاب کیا۔ سفیر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں سیاسی نظام مستحکم ہے جبکہ ضوابط کاروبار دوست ہیں ، پاکستانی تاجروں کو چاہئے کہ وہ مشترکہ منصوبہ سازی کے تحت مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت دونوں ممالک کی صلاحیتوں کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائشیں اور تجارتی وفود کے تبادلے سے باہمی تجارت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو گرین اکانومی پر مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ گلوبل وارمنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور مشترکہ کوششوں سے اس سے نمٹنا چاہئے۔سفیر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری بہت ترقی یافتہ ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کی جھلک باہمی تجارت میں بھی نظر آنی چاہیے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے مابین بہترین اور مضبوط تعلقات سے تجارت و سرمایہ کاری کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان باہمی تجارت تسلی بخش نہیں، 2020 میں دوطرفہ تجارتی حجم صرف 336 ملین ڈالر رہا جس میں پاکستان سے سوئٹزرلینڈ کو برآمدات صرف 15 ملین ڈالر تھیںجنہیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر سوئٹزرلینڈ کی معاشی اہمیت سے بخوبی واقف ہے جس کی درآمدات 291 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 318 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک فارماسیوٹیکل، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ، سرجیکل آلات ، کھیلوں کے سامان ، زراعت کی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تمام بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کے ساتھ پورے ملک میں خصوصی اقتصادی زونز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ حکومت ان سپیشل اکنامک زونز میں مقامی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کو منافع بخش ٹیکس مراعات کی پیش کش کررہی ہے۔اس کے علاوہ ، حکومت پاکستان کی جانب سے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی اور الیکٹرک وہیکل پالیسی بھی متعارف کرائی ہے، سفیر اس پیش رفت سے سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ سیاحت کے لئے مشہور ہے۔ دونوں ممالک کو پاکستان میں سیاحت کے شعبے کی بے پناہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس شعبہ میں بھی تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کوتجارتی وفود کے تبادلے ، تجارتی میلوں اور سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ سابق سینئر نائب صدر امجد علی جاوا،ایگزیکٹو کمیٹی اراکین شہزاد بٹ، شاہد نذیر،حاجی محمد آصف سحر، مردان علی زیدی، فیاض حیدر اور نعیم حنیف نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…