پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر افغان مظاہرین کا حملہ

datetime 25  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر افغان مظاہرین نے حملہ کر کے پتھرائو کیا اور پانی کی بوتلیں پھینکیں ۔مشتعل مظاہرین نے ہائی کمیشن میں پولیس کی موجودگی میں گھسنے کی کوشش بھی کی ۔ افغان امن مذاکرات کا میزبان ہو نے پر قطر کے سفارت خانے

پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا لیکن وہاں وہ پر امن رہے ۔ روزنامہ جنگ میں مرتضیٰ علی شاہ کی شائع خبر کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے ہائی کمیشن پر حملے کی تصدیق کر تے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت سے اس غنڈہ گردی اور توڑ پھوڑ کی شکایت کر دی گئی ہے ۔ انہیں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ 2019 میں پی ٹی ایم کے تحت احتجاج کے موقع پر بھی ہائی کمیشن کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی ۔پاکستانی ہائی کمیشن اورقطری سفارت خانے پر احتجاج کا اہتمام کر نے والوں میں نور اللہ ، ڈاکٹر قاسم ابراہیم ، فضل خان ، ضیا اللہ ہمداد ، باچا خان ، شاہ محمود خان، اٹل کاون ، سادات خان اور فلک نیاز خان شامل تھے ۔ اتوار کی شام تقریباً دو سو مظاہرین نے وطن کے نام سے ایک گروپ کی اپیل پر جمع ہو کر افغانستان میں قتل و غارتگری کے خلاف مظاہرہ کیا ،مظاہرہ کے اس گروپ کا بھی لندن میں افغان سفارت خانے کا ہی پتہ، ہے ۔ افگان مظہاری نے ہائی کمیشن کو ایک یاد داشت بھی پیش کی ۔وطن کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ مظاہرے کے چند شرکا توڑ پھوڑ میں ملوث رہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…