کسی بھی ملک کی جانب سے فلسطینیوں کیلئے پہلا عملی قدم، عرب ملک نے بڑا فیصلہ سنا دیا

  پیر‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2021  |  18:02

قاہرہ(این این آئی) مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور متعلقہ سیکورٹی اداروں نے زخمی فلسطینیوں کے لیے ملک کے ہسپتالوں کے دروازے کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے کسی بھی ملک کا یہ پہلا عملی قدم ہے۔مصر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب زخمیوں سے فلسطین کےہسپتال بھر چکے ہیں اور مزید زخمیوں کو داخل کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اس ضمن میں باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو گذشتہ دنوں کے دوران ہونے والے حملوں کے زخمیوں کا استقبال کرے گی۔ذرائع ابلاغ


کے مطابق یہ بات قاہرہ میں فلسطینی سفیر اور عرب لیگ میں مستقل مندوب دیاب اللوح نے بتائی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق مصر میں ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر اسامہ عبدالحئی کا کہنا ہے کہ 1200 مصری ڈاکٹر فلسطین میں بطور رضاکار زخمیوں کے علاج کے لیے اپنے کوائف کا اندراج کرا چکے ہیں۔جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں امور صحت کے محکمے میں خارجہ تعلقات کے ذمے دار ڈاکٹر عبداللطیف الحاج سے رابطہ جاری ہے۔اس ضمن میں وضاحت کی گئی ہے کہ رابطے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ زخمی فلسطینیوں کی وصولی کے موقع پر شہرکے اسپتالوں میں کیا ضروریات ہوتی ہیں؟۔بیان کے مطابق فلسطینی ذمے دار نے مطلوبہ ادویات اور دیگر ضروری لازمی اشیا کی فہرست بھی ارسال کی ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور متعلقہ سیکورٹی اداروں نے زخمی فلسطینیوں کے لیے ملک کے ہسپتالوں کے دروازے کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے کسی بھی ملک کا یہ پہلا عملی قدم ہے۔مصر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب زخمیوں سے فلسطین کے ہسپتال بھر چکے ہیں


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎