اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

موسم کی خرابی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو واپس ہوٹل بھیج دیا گیا، پاک فضائیہ نے مدد کرکے میچ میں پہنچا دیا

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

ملتان (این این آئی)فلائٹ کینسل ہونے پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پاک فضائیہ نے ملتان پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں شرکت کرنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی ٹیم کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب اسلام آباد اور ملتان کے خراب موسم کی وجہ سے قومی ائیر لائن کے اے ٹی آر کی چارٹرڈ فلائٹ ملتان نہ جا سکی اور کھلاڑی مایوس کن انداز میں دوبارہ ہوٹل آگئے تھے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے شام 7 بجے ملتان کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے فلائٹ اسلام آباد ائیرپورٹ سے نہ اڑ سکی، کھلاڑی تین گھنٹے سے زائد وقت ائیر پورٹ پر انتظار کرنے کے بعد دوبارہ اسلام آباد کے ہوٹل منتقل ہو گئے۔کوئٹہ کی ٹیم کو کئی گھنٹے اسلام آباد انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر انتظار کرنے کے بعد واپس ہوٹل آنا پڑا تھا جبکہ ہفتے کو فلائٹ کے ٹیک آف کے بعد اسلام آباد میں ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔پاک فضائیہ کے خصوصی فلائٹ آپریشن کی وجہ کوئٹہ کی ٹیم ملتان کے میچ سے ساڑھے تین گھنٹے پہلے ملتان پہنچ سکی اور پاکستان سپر لیگ کے میچ کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے تعاون کے بغیر میچ کا انعقاد خطرے میں تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی ٹیم ملتان ہوٹل میں چیک ان ہونے کے فورا بعد ملتان اسٹیڈیم روانہ ہوئی۔پی سی بی ترجمان نے تصدیق کی کہ پی ایس ایل کو کامیاب بنانے میں ائیر فورس نے ہماری درخواست قبول کی، صبح نو بجے سی ون تھرٹی کے ذریعے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم ملتان پہنچی اور اسی فلائٹ کے ذریعے کراچی کنگز کو اسلام آباد لایا گیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پی سی بی پاک فضائیہ کی شکر گزار ہے جس نے قومی فریضے میں پی سی بی کی درخواست پر ہمیں سی ون تھرٹی فراہم کیا۔پی سی بی کے ترجمان کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے ملتان میں ہونے والے میچ کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان ائیر فورس نے خصوصی پرواز کے ذریعے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو اسلام آباد سے ملتان پہنچایا جس کے بعد ہفتے کو ہونے والا میچ ممکن ہو سکا۔پی سی بی انتظامیہ نے کوئٹہ کو مختلف سینٹرز پر میچ کھلانے کی پالیسی اپنائی ہے تاہم موسم کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔جمعے کو کھلاڑی دن بھر ہوٹل میں ملتان جانے کا انتظار کرتے رہے حالانکہ سڑک کے راستے سفر کیا جا سکتا تھا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…