اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیس اہلکار شہریوں کے لیے درد سر بن گیا، حیران کن طریقے سے پیسے بٹورنے کا سلسلہ جاری

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پولیس اہلکار شہریوں کے لیے درد سر بن گیا۔ شہریوں سے موٹر سائیکل کے کاغذات نہ ہونے کے 200روپے، ماوے کے500اور پولیس پیٹرول کے نام پر رقم بٹورنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق مدینہ کالونی تھانے کی حدود 7نمبر چوک پر صبح کے وقت میں اسنیپ چیکنگ کے بہانے ڈیوٹی پر جانے والے افرد کو بلا وجہ روک کر پیسے بٹور نے کا عمل تیزی سے جاری رکھا ہوا ہے،

پولیس اہلکارموٹر سائیکل سوار افراد کو بلا وجہ روکتاہے اور اتفاق سے کسی کے پاس کاغذات نہ ہوں تو اس سے 200اور جسکے پاس سے ماوا نکل آئے اس سے 500 روپے لے رہا ہے،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے اگر موٹر سائیکل کے کاغذت مکمل ہونے کی صورت میں بھی شہری کو جانے نہیں دیا جاتا اور سر کاری گاڑی کے پیٹرول کے نام پر پیسے وصول کئے جاتے ہیں،شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں پیٹرول اپنی جیب سے ڈلوانا پڑتا ہے ہمیں گورنمنٹ پیٹرول کی رقم نہیں دیتی ہے اہل محلہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکار کا دعوی ہے کہ ایس ایچ اور مدینہ کالونی کی بیٹ کے حوالے سے بس اسٹاپ،مارکیٹس، ٹھیلے پتھارے، گھریلوصنعت، ودیگر جرائم پیشہ کاروبار کی ساری سیٹنگ میں نے کروائی ہے علاقہ مکین نے آئی جی سندھ ایس ایس پی ویسٹ اور ایس پی بلدیہ شہلا قریشی سے اپیل کی ہے انٹیلی جنس رپورٹ کو بروکار لاتے ہوئے پولیس میں موجود کالی بھڑوں کے خلاف فوری کارروائی کی جا ئے اور عوام کو بد دیانت پولیس اہلکاروں اور افسران سے تحفظ فراہم کیا جائے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…