اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

نامعلوم خاتون نے پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکورٹی کا بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پارلیمنٹ کی ناقص سیکورٹی کے باعث ایک نامعلوم خاتون اچانک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے جاری اجلاس میں داخل ہوگئی،جس کے بعد اجلاس میں شریک اعلی افسران،سینیٹرز اور رکن قومی اسمبلی شدید اضطراب میں مبتلا ہوگئ

ے۔بھاری بھرکم خاتون پشتون معلوم ہوتی تھی جس نے پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم میں جاری پی اے سی سب کمیٹی کے اجلاس میں اچانک داخل ہوکر سینیٹر مشاہد حسین سید کا بازو جھڑک کر پوچھا کہ یہ کس کا اجلاس ہے،جس پر کنونیئر کمیٹی شیری رحمان نے مضطرب حالت میں پوچھا یہ خاتون کون ہے اور سیکورٹی والے لوگ کہاں ہیں۔تاہم خاتون کو جب بتایا گیا کہ یہ سب کمیٹی پی اے سی کا اجلاس ہورہا ہے تو متذکرہ نامعلوم خاتون فوراً کمرہ سے باہر چلی گئی ،جس پر سینیٹر مشاہد حسین سید،شیری رحمان اور شیراز ایم این اے ششدر ہوکر آپس میں محو گفتگو ہوگئے۔کنونیئر کمیٹی شیری رحمان نے کمرہ کے گیٹ پر مامور سیکورٹی افسر کو طلب کیا تو وہ بروقت حاضر نہ ہوہوا کیونکہ متعلقہ سیکورٹی اہلکار دروازہ پر ڈیوٹی دینے کی بجائے کہیں اور گیا ہوا تھا۔پارلیمنٹ میں سیکورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے اور ہر آنے والے شخص،خاتون کی شناخت دیکھ کر پارلیمنٹ میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے،ماضی میں بھی پارلیمنٹ کی ناقص سیکورٹی کے باعث ایک خاتون قومی اسمبلی اجلاس میں جاکر بیٹھ گئی تھی،جس پر ہنگامہ کھڑا ہوا تھا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ خاتون کیسے داخل ہوگئی ہے جب انہوں نے سیکورٹی اہلکار کی طرف دیکھا تو وہ ڈیوٹی سے غائب تھا۔قومی اسمبلی ذرائع نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ میں سیکورٹی کا معیار موجودہ حکومت کے ساتھ ہی گر چکا ہے جب سے اسد قیصر سپیکر منتخب ہوئے ہیں اسد قیصر کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ بہتر منتظم نہیں ہیں اور ان کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پشتون لوگوں کی اجارہ داری ہے

تاہم پی اے سی سب کمیٹی اجلاس میں ناقص سیکورٹی کا معاملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کانسٹیٹیوشن کمرہ کے ساتھ دوسرا روم وزیراعظم عمران خان کا ہے اس حوالے سے اس واقعہ کو اہمیت نہ دینا ناانصافی ہوگی۔اس حوالے سے شیری رحمان نے آن لائن کو بتایا کہ متذکرہ خاتون غلطی سے اجلاس میں آگئی تھی اور معذرت کے بعد چلی گئی۔جب ان سے پوچھا کہ واقعہ کی رپورٹ متعلقہ حکام کو دی ہے تو اس حوالے سے شیری رحمان نے وضاحت نہیں کی۔یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں،تاہم سیکورٹی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…