اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

صرف تین ماہ کے دوران کتنی بڑی رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذرہوگئی؟ملکی دفاع کی مد میں رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں کتنی رقم خرچ ہوئی؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی اور ملکی دفاع کی مد میں رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں 814 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ رقم ریونیو میں دہرے ہندسوں میں ہونے والے اضافے کے باوجود حکومت کی آمدنی سے بھی زائد ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے گذشتہ روزجاری کی گئی وفاقی مالیاتی آپریشنز کی سمری کے مطابق جولائی تا ستمبر قرضوں پر سود کی

ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد وفاقی حکومت کی آمدنی منفی 67 ارب روپے رہی۔سمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی ترقی پر اخراجات میں بھاری کٹوتی کے باوجود بنبیادی طور پر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کی وجہ سے وفاق کے اخراجات دہرے ہندسوں میں رہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد پہلی سہ ماہی میں 814.2 روپے کے اخراجات اس مدت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جمع کردہ ٹیکسوں کے حجم کا 84.4 فیصد کے مساوی تھے۔ پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کا حاصل کردہ ریونیو 964.4 ارب روپے تھا۔جولائی تا ستمبر حکومت نے اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 571.6 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ رقم گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 64.6 ارب روپے (12.8) فیصد زیادہ ہے۔ اسی مدت میں دفاعی اخراجات 242.6 ارب روپے رہے جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 10.7 فیصد زائد ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد میں آمدنی سے زیادہ اخراجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک معاشی جھٹکوں سے سنبھل نہیں سکی۔اگرچہ پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.7 فیصد (286ارب روپے)رہا۔ پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارے میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی وجہ

چاروں صوبوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ تھا۔ اس عرصے میں حکومت کی ٹیکس و نان ٹیکس آمدنی اور دیگر ٹیکس بڑھ کر دہرے ہندسوں میں داخل ہوگئے مگر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی وجہ سے انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بجٹ کا حجم غیراہم حد تک محدود ہوگیا۔ہوتا ہے کہ انسانی ترقی پر اخراجات میں بھاری کٹوتی کے باوجود بنبیادی طور پر قرضوں پر سود کی

ادائیگی اور دفاعی ضروریات کی وجہ سے وفاق کے اخراجات دہرے ہندسوں میں رہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد پہلی سہ ماہی میں 814.2 روپے کے اخراجات اس مدت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جمع کردہ ٹیکسوں کے حجم کا 84.4 فیصد کے مساوی تھے۔پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کا حاصل کردہ ریونیو 964.4 ارب روپے تھا۔ جولائی تا ستمبر حکومت نے

اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 571.6 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ رقم گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 64.6 ارب روپے(12.8) فیصد زیادہ ہے۔ اسی مدت میں دفاعی اخراجات 242.6 ارب روپے رہے جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 10.7 فیصد زائد ہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد میں آمدنی سے زیادہ اخراجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ

حکومت ابھی تک معاشی جھٹکوں سے سنبھل نہیں سکی۔ اگرچہ پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.7 فیصد (286ارب روپے)رہا۔پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارے میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی وجہ چاروں صوبوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ تھا۔ اس عرصے میں حکومت کی ٹیکس و نان ٹیکس آمدنی اور دیگر ٹیکس بڑھ کر دہرے ہندسوں میں داخل ہوگئے مگر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی وجہ سے انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بجٹ کا حجم غیراہم حد تک محدود ہوگیا۔



کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…