ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

کراچی میں کچرے کے ڈھیرٹھیکے پر دے کر پیسے کمائے جاتے ہیں،ایک ٹن کچرا اٹھانے پر کتنا خرچ آیا جبکہ سندھ حکومت کتنے ڈالر وصول کر رہی ہے؟وفاقی وزیر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی وزیربرائے بحری امور سید علی زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیرے ٹھیکے پر دیے کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر ٹھیکے پر دئیے جاتے ہیں جہاں سے افغانی بچے اشیا اٹھا کر فروخت کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کچرا پھنکنے والی جگہیں ٹھیکے پر دی جاتی ہیں

اور پھر جب تک محلے والے آواز نہیں اٹھاتے کچرا نہیں اٹھایا جاتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بارش کے بعد کراچی کا سارا کچرا بندرگاہ کی طرف چلا جاتا ہے اور جب ہماری بندرگاہ گندے ہوں گے تو کاروبار کرنے کون آئے گا۔نالوں سے کچرا نکال کر باہر سڑکوں پر پھینکنے کے سوال پر انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت نے گند پھینکنے کے لیے 11 مقامات کی نام دیے تھے جن میں سے 6 موجود ہی نہیں، کچرا خشک ہونے پر اٹھایا جاتا ہے اور ہم اٹھا رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کچرا اٹھانا مشکل کیوں ہے انہوں نے کہا کہ اس شہر کی تباہی 1980 سے شروع ہوئی اب یہ سیاسی معاملہ بن چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ نالے صاف کرنے میں ساڑھے چھ کروڑ لاگت آئی ہے جبکہ کے ایم سی کو 55 کروڑ دیے گئے تھے لیکن نتیجہ صفر رہا۔علی زیدی نے بتایا کہ ایک ٹن کچرا اٹھانے پر 6.50 ڈالر سے لے کر 10 ڈالر خرچ آیا لیکن سندھ حکومت 27 ڈالر لے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی 60 سے 65 فیصد ا?بادی کو منصوبہ بندی کے بغیر بسایا گیا ہے جو سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔سید علی زیدی نے کہا کہ ناصر حسین شاہ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی جماعت میں کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ وہ کام کریں۔انہوں نے کہا کہ کوئی ایک آدمی اس شہر کے مسائل حل نہیں کرسکتا لیکن کوئی رہنمائی کرنے والا تو ہو۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس علاقے کا بہترین شہر بنانا ہے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔ گند صاف کرنا ہنگامی مسئلہ ہے۔بد عنوانی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر روپے کی کرپشن ثابت ہوگئی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔وفاقی وزیر نے جہاز رانی کی نئی پالیسی میں تاخیر کے سوال پر جواب دیا کہ یہ آسان کام نہیں تھا، ای سی سی اور کابینہ سے منظوری ہو گئی ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔اپنی وزارت کے متعلق سب سے بڑے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایچ آر کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔کے پی ٹی کی زمین سے متعلق سوال پر علی زیدی نے کہا کہ بہت سارے مقدمات عدالت میں زیر التوا ہیں، پورٹ شہر چلاتا ہے لیکن کراچی کی منصوبہ بندی میں پورٹ انتظامیہ کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔ایل این جی ٹرمینل کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ لوگوں کو جگہ دی اور ہماری ذمہ داری یہیں تک تھی، اس سے آگے حکومت کا کام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…