اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بنوں میں عیسائی جوڑے نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

بنوں (آن لائن) بنوں میں پشاور کی رہائشی عیسائی جوڑے نے عیسائیت چھوڑ کر مذہب اسلام قبول کر لیا جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم نے جوڑے کو کلمہ شہادت اور نکاح پڑوایا گزشتہ روز پشاورسے عیسائی مذہب کے ریحان اور

اسمہ جماعت اسلامی بنوں کے ضلعی دفتر پہنچے جہاں پر جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر پروفیسر ابراہیم، ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا تمیز الدین اور الخدمت فاونڈیشن کے صدر سید جلال شاہ کی موجودگی میں عیسائی جوڑے نے باقاعدہ پر کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیاا ور پروفیسر ابراہیم سے باقاعدہ طور پر مذہب اسلام کے مطابق نکاح پڑواکر نئے سرے ازدواج زندگی میں باندھ گئے اس موقع پر اسلام قبول کرنے والے ریحان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ مسلمانوں کی طرز زندگی سے متاثر تھے مسلمانوں کی پانچ وقت کی نماز اور ہمیشہ باوضو رہنے سمیت دیگر اعمال کی وجہ سے انہیں مذہب اسلام پسند آیا جس کی وجہ سے انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا انہوں نے کہا کہ اسلام قبولیت کا فیصلہ انہوں نے کسی کے دباؤ یا زبردستی میں آکر نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اب وہ اپنی آئندہ کی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں گے اس موقع پر پروفیسر ابراہیم اور جنرل سیکرٹری مولانا تمیز الدین نے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں اسلام کے بارے میں آگاہ کیا اور انہیں اسلام قبولیت پر مبارکباد اور خوش آمدید کہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…