ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی مزار قائد آمد پر شدیداحتجاج،مظاہرین کیا نعرے لگاتے رہے؟ افسوسناک صورتحال

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (آئی این پی) لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے مزار قائد پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کروایا جائے اور وزیراعظم عمران خان سے ہماری ملاقات کرائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو وزیراعظم عمران خان کے کراچی کے دورہ پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے مزار قائد کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرایا جائے اور وزیراعظم سے بھی اس سلسلہ میں ملاقات کرائی جائے۔ اس موقع پر مظاہرین اور

پولیس کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کراچی پہنچ گئے،عمران خان نے سب سے پہلے مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اتوار کو وزیر اعظم عمران خان وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کراچی پہنچ گئے۔کراچی پہنچنے پر گورنر سندھ عمران اسمعیل، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور دیگر اعلی حکام نے وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔شہر قائد پہنچنے کے بعد عمران خان نے سب سے پہلے مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر گورنر اور وزیر اعلی سندھ ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر عمران خان کو سلامی بھی پیش کی گئی جبکہ وزیر اعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ، جس کے بعد عمران خان نے مزار قائد کے احاطے میں مدفون قائد ملت لیاقت علی خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قبور پر بھی حاضری دی۔عمران خان کے دورے کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور مزار قائد اور دیگر مقامات کے اطراف پولیس، رینجرز کے اہلکار تعینات تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…