ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

گورنر ہائوس پنجاب ، سندھ ، مری کے بعد آئندہ اتوار عوام کیلئے کونسا ہائوس کھولا جائے گا ؟اعلان کر دیا گیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

مری(آئی این پی ) گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کشمیر پوائنٹ کے گورنر ہا ئو س کو بھی آئندہ اتوار عوام کے لیے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ یہ عوام کی ملکیت ہے، کے صاف پانی کے لیے بیرون ممالک دورہ کر کے لوگوں سے ڈونیشن لیں گے۔ اتوار کو گورنر ہا ئو س مری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں یہ

گورنر ہا ئو س نہیں، یہ جو بھی ہے حکومت پنجاب کی ملکیت ہے، عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلنے والے ہاسز کو عوام کے لیے کھول رہے ہیں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ پانی کا مسئلہ حل کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے، گندا پانی پینے سے آنے والی نسل تباہ ہورہی ہے تاہم میں نے ذاتی حیثیت میں اپنی این جی او سے 100 سے زائد فلٹریشن پلانٹ لگائے۔چوہدری محمد سر ور نے کہا کہ پنجاب میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ان کی ذمہ لگائی گئی ہے، صوبے کے 26 ہزار دیہات میں صاف پانی پہنچانا ہے جو آسان نہیں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ صوبے کا پورا ترقیاتی بجٹ لگائیں تو پھر ہی تمام دیہات میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہے، پینے کے صاف پانی کے لیے بیرون ممالک دورہ کر کے لوگوں سے ڈونیشن لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مری میں یونیورسٹی اسپتال اور گیس کے مسئلے کو حل کرنے کا جامع پلان بنائیں گے اور ہم نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے ہیں تاکہ مقامی مسائل مقامی عہدیدار حل کریں۔ پنجاب بھر میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے 160ارب روپے درکار ہیں۔ (ن غ)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…