ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

’’اپنی عوام کیساتھ یہ سلوک قطعاً برداشت نہیں کروں گا ‘‘ لوگوں کے کپڑے نہ اتاریں گدھ نہ بنیں،ڈاکٹر زلوگوں کی خدمت نہیں کر سکتے تو یہ کام کریں اور گھر جائیں ، چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز ، سخت حکم جاری کر دیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی) چیف جسٹس نے نجی ہسپتالوں کو علاج کے نرخوں پر نظر ثانی کا حکم د یتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہئے، لوگوں کے کپڑے نہ اتاریں گدھ نہ بنیں، ڈاکٹرز لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو ہسپتال بند کردیں‘ دل میں اسٹنٹ ڈالنے کے ایک لاکھ روپ وصول کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیوں لئے جارہے ہیں‘

پی ایم ڈی سی نے جو طے کیا اس سے زیادہ کوئی وصول نہ کرے۔ اتوار کو نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج سے متعلق سپریم کورٹ از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے نجی ہسپتالوں کو علاج کے نرخوں پر نظر ثانی کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال علاج کی قیمتیں خود کم کردیں۔ ڈاکٹر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو ہسپتال بند کردیں۔ مریضوں سے روزگار کا ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں دل کے اسٹنٹ ڈالنے کے ایک لاکھ وصول کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیوں وصول کئے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پی ایم ڈی سی نے جو طے کیا اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا۔ ایک مریض کا تیس دن کا بل چالیس لاکھ روپے کیسے بنا دیا۔ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں ورنہ عدالت فیصلہ کریگی غریبوںکو بھی اچھا علاج کروانے دیں۔ عدالت نے ڈاکٹرز ہسپتال انتظامیہ کو اپنے چارجز پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا۔ نجی ہسپتال کیا صرف امیروں کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ کوئی عدالت نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی میں دخل نہیں دے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نجی ہسپتالوں کا معاملہ سپریم کورٹ خود دیکھ رہی ہے۔ ہسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہئے، لوگوں کے کپڑے نہ اتاریں گدھ نہ بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…