جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں پانچ ہزار،چین میں85ہزار ڈیم اور پاکستان میں کتنے ڈیم ہیں؟انتہائی افسوسناک انکشاف، وزیراعظم عمران خان برہم، ہنگامی قدم اُٹھالیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم پاکستان عمران خان نے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین سے ملاقات کی جس میں انہوں نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی جلد تعمیر پر زور دیا۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ انہوں نے جنرل (ر) مزمل حسین نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔عمران خان نے بتایا کہ انہوں نے چیئرمین واپڈا پردیامر بھاشا اورمہمند ڈیمز کی جلد تعمیر پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ میں خود ڈیمز کے منصوبوں کی

نگرانی کرسکتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں دو بڑے ڈیموں سمیت صرف 185 ڈیمز ہیں جبکہ اس کے برعکس بھارت میں 5ہزار اور چین میں 4 ہزار بڑے ڈیموں سمیت 84 ہزار ڈیمز ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو بڑھتے ہوئے آبی بحران سے محفوظ بنانا ہے، چیئرمین واپڈا سے ملاقات کے دوران دیامر بھاشا اور مہمنڈ ڈیمز کی جلد تکمیل پر زور دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ معاملے کی افادیت کے پیش نظر منصوبے کی نگرانی میں اپنے ذمے لے سکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حصے میں سالانہ 45 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جس کا 80 فیصد 3 ماہ جبکہ بقیہ 20 فیصد باقی 9 ماہ میں آتا ہے۔قبل ازیں اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں پر سود ادا کرنے کیلئے عالمی اداروں سیامداد لینا پڑتی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں سرکاری زمین، رہائش گاہوں کے 90 فیصد اعداد و شمار ملے ہیں، سرکاری زمین کی مالیت سے متعلق اعداد و شمار ہوش اڑا دینے کی حد تک حیرت ناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ 34, 459 کنال سرکاری زمین دیہی،17, 035 کنال سے زائد شہری علاقوں میں ہے، صرف شہری زمین پر تعمیرات کی مالیت 300 ارب روپے سے زائد ہے۔وزیراعظم کاکہنا تھا کہ پاکستان کو قرضوں پر سود ادا کرنیکے لیے عالمی اداروں سیامداد لینا پڑتی ہے، پاکستان جیسا ملک کیسے 300 ارب روپے ایک جگہ منجمد کرسکتا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…